بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مائیکروفنانس بینک میں ملازمت کرنے کا حکم

مائیکروفنانس بینک میں ملازمت کرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ کروم ٹیکنالوجی ایک چائنہ کی کمپنی ہے،دوسرے لفظوں میں یہ ایک مائیکرو فنانس بینک ہے جو کہ مسلم اور غیر مسلم ممالک میں افراد کو سود پر قرض دیتا ہے۔ شروع میں عقد کے اندر یہ بات طے ہوتی ہے کہ فلاں تاریخ تک قرض کی واپسی پر کوئی پلنٹی نہیں ہے، لیکن مقررہ تاریخ کے بعد یومیہ بنیاد پر سود چارجز لاگو ہوں گے۔

کمپنی میں کام کرنے والے ملازمین کی صرف اتنی ذمہ داری ہوتی ہےکہ مقررہ تاریخ پر قرض دار کو یاد کروا دے کہ آپ کے قرض کی ادائیگی کی تاریخ آگئی ہے،اپنا قرض ادا کریں۔ کمپنی کے یہ ورکرز صرف کال کرنے کی حد تک کمپنی کے معاون ہیں۔

تعارف کے بعد درج ذیل سوالات ہیں:

۱۔ غیر مسلموں کی اس کمپنی میں مسلمانوں کا ملازمت کرنا کیسا ہے؟

۲۔ کیا کال کر کے قرض دار کو قرض کی یاد دہانی کرانا سود میں معاونت ہے یا نہیں ؟

۳۔یہ کال کرنے والے ورکرز نئے آنے والوں کو کال کرنے کی ٹریننگ بھی دیتے ہیں ، تو کیا ٹریننگ کی تنخواہ حلال ہے ؟

یہ کمپنی پاکستان میں اپنی برانچ لانا چاہتی ہے ، ہمارے علاقے میں اس کا مختصر طرز پر آغاز ہوچکا ہے ، لوگ بیروزگاری کے سبب استفسار کررہے ہیں،اگر شرعاً گنجائش ہوتو رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

۱۔صورت مسئولہ میں مسلمانوں کا اس کمپنی میں ملازمت کرنا جائز نہیں ۔

۲۔صورت مسئولہ میں اگر چہ سود ی قرض کا معاملہ ہے لیکن قرض کی مدت کے آنے  سے پہلے قرض دار کو قرض کی ادائیگی کی  یاد دہانی کروانا ،سود  میں معاونت کے  زمرے میں نہیں آتا۔ 

۳۔صورت مسئولہ میں ملازمین کو کال کرنے کی ٹریننگ دینا  فی نفسہ مباح ہے ،اور اس پر اجرت لینا بھی جائز ہے،لیکن چونکہ تنخواہ بینک کی آمدنی سے دی جا رہی ہے  ،اس لئے تنخواہ حلال نہیں۔

لما في تكملة فتح الملهم:

قوله:"و موكله" يعني الذي يؤدي الربا إلي غيره،فإثم عقد الربا و التعامل به سواءفي كل من الاخذ و المعطى........

قوله:"و كاتبه"لأن كتابة الربا إعانة عليه ،و من هنا أن التوظف فى البنوك الربوية لا يجوز،فإن كان عمل الموظف في البنك ما يعين علي الربا،كالكتابة أو الحساب،فذلك حرام  لوجهين :الأول:إعانة علي المعصية،والثاني:أخذ الأجرة من المال الحرام،فإن معظم البنوك حرام مستجلب بالربا،و أما إذا كان العمل لا علاقة له بالربا فإنه حرام للوجه الثاني فحسب،فإذا وجد بنك معظم دخله حلال،جاز فيه التوظف للتوع الثاني من الأعمال ،والله أعلم. (باب لعن اكل الربا و موكله،1/619،ط:دار العلوم).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/315،317