بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لمپی اسکن بیماری کی وجہ سے بائع کےقبضہ میں مرنے والے جانور کا ضمان

لمپی اسکن بیماری کی وجہ سے بائع کےقبضہ میں مرنے والے جانور کا ضمان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ اس مرتبہ قربانی کے ایام میں جو لمپی اسکن کی بیماری بہت زیادہ پھیلی اور بہت سارے قربانی کے جانور بھی اس سے متاثر ہوئے ،بعض علاقوں میں   ایسا ہوتا ہے کہ گائے کے مالک سے بات کر لی جاتی ہے،وہ اس گائے میں دوسرے لوگو ں کو شریک کرتا ہے،مالک کا بھی اس میں حصہ ہوتا ہے اور وہ باقی چھ حصے چھ لوگوں کے کہنے پر ان کے نام کر دیتا ہے،لیکن ان سے بعض دفعہ پیسے نہیں لیے جاتے بس یہ معاہدہ ہوجاتا ہے ،اور حصے نام کر دئیے جاتے ہیں،البتہ وہ جانور اصل مالک ہی کے قبضے میں  رہتا ہے،نیز  اس مرتبہ  بھی ایسا ہی کیا گیا ،بعدمیں  قربانی کے ایام آنے سے پہلے ہی وہ جانور اس بیماری کا شکار ہوکر مر گئے ،اب  آیا باقی شرکاء پر اس گائے کے حصوں کی قیمت کا ضمان  لازم ہوگا، یا اکیلا مالک ہی اس کا ضامن ہوگا؟نیزدونوں صوتوں کا حکم بیان فرمادیں ،جب وہ پیسے دے چکے ہوں ،اور جس صورت میں پیسے نہیں دئیے۔شکریہ

جواب 

صورت مسئولہ میں دونوں صورتوں میں خواہ دیگر  شرکاء نے جانور کے مالک کو پیسے دئیے ہوں یا نہ دئیے ہوں ،ضمان صرف مالک پر آئے گا،شرکاء پر نہیں  آئےگا، کیونکہ یہاں قبضہ نہیں پایا جارہا ،اور مبیع (جانور) قبضہ کرنے سے پہلے ہلاک ہوا ہے،لہذا جس صورت میں دیگر شرکاء  نے پیسے دئیے ہیں اس صورت میں مالک پر لازم ہےکہ وہ دیگر شرکاء کو رقم واپس لوٹائے ۔

وفي بدائع الصنائع:

"ولو أخذه رجل فجاء إلى مولاه فاشتراه منه جاز الشراء....لو هلك العبد قبل الوصول يهلك على البائع، ويبطل العقد؛ لأنه مبيع هلك قبل القبض".(كتاب البيوع،6/575،ط:رشيدية). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/295