بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قضائے عمری کے مروجہ طریقے کی شرعی حیثیت

قضائے عمری کے مروجہ طریقے کی شرعی حیثیت

سوال

کیا فرماتے ہیں مفیتان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مولانا صاحب ہر سال جمعة الوداع کو نماز جمعہ کے بعد چار رکعت نفل نماز ( قضاء عمری) کے نام سے جماعت سے پڑھاتا ہے او رباقاعدہ اس نماز کے پڑھنے کی ترغیب دی جاتی ہے او رمولوی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ نماز صرف ان پابند نمازی حضرات کے لیے ہے جنہوں نے خدانخواستہ کوئی نماز ناپاکی کی حالت میں پڑھی ہو یا کپڑے ناپاک تھے اور ان کو اس کا پتہ نہ چلا ہو تو اس نماز (قضاء عمری) کی اس طرح کوئی اصل ہے ؟ وضاحت فرمائیں۔

جواب

قضاء عمری کا مذکورہ طریقہ درج ذیل وجوہات کی بناء پر شرعاً جائز نہیں:

مذکورہ طریقہ شرعاً ثابت نہیں اور نہ ہی شریعت میں اسکی کوئی اصل ہے۔ علی سبیل التداعی نوافل کی جماعت کرانا مکروہ ہے۔ قضا نماز کو مخفی طور پر پڑھنا چاہیے ، جب کہ مذکورہ طریقے میں علی الاعلان لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے۔ فوت شدہ فرائض کی قضاء بھی فرض ہے ، جب کہ مذکورہ طریقہ میں نفل کی نیت سے نماز پڑھی جاتی ہے اور نفل پڑھنے سے فرض کی قضاء ذمہ سے ساقط نہیں ہوتی۔ قضاء نمازوں سے متعلق اصول شرعی یہ ہے کہ جتنی نمازیں فوت ہو جائیں ان سب کی قضاء لازم اور ضروری ہے ، ایک نماز تمام عمر کی قضاء نمازوں کے لیے کافی ہو جائے ، شرعاً اس کی کوئی اصل نہیں۔
فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی