بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قسطوں میں خریدے ہوئے پلاٹ پر زکوٰۃ کا حکم

قسطوں میں خریدے ہوئے پلاٹ پر زکوٰۃ کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے ایک پلاٹ قسطوں پرلیا،کہ اسےاچھی قیمت پربیچ دوں گا،اورابھی تک قسط اداکرہاہوں، میری ملکیت میں نہیں ہوا،پانچ سال ہوگئے،کیااس پرزکوٰۃ بنتی ہے؟برائےمہربانی شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ پلاٹ چونکہ تجارت کی  نیت  سےخریداگیاہے،اس لیے اس کی زکوٰۃ  ادا کرنالازم ہے،البتہ قسطوں سے خریدار ی کےمتعلق  اس کی زکوٰۃ  کی تفصیل یہ ہے کہ جتنی قسطیں  زکوٰۃ  کی  ادائیگی کےوقت اداکرنا باقی ہوں،وہ خریدار کےذمہ دین ہے،لہذا اس دین (نہ اداکردہ شدہ قسطوں)کی رقم کل مال زکوٰۃ  سےمنہاکرکے زکوٰۃ  کاحساب لگایاجائے ۔

لما في "تبيين الحقائق" مع حاشية الشيخ الشلبي:

"قال رحمه الله:(وشرط وجوبها العقل والبلوغ والإسلام والحرية،وملك نصاب حولي فارغ عن الدين وحاجته الأصلية نام، ولو تقديرا).....والمراد بالدين دين له مطالب من جهة العباد حتى لا يمنع دين النذر والكفارة، ودين الزكاة مانع حال بقاء النصاب.....وقال العلامة الشيخ الشلبي تحت قوله: (دين له مطالب من جهةالعباد) أي: دون دين الله تعالى سواء كان لله كالزكاة أو لهم كالقرض وثمن المبيع وضمان المتلف، وأرش الجراحة ومهر المرأة سواء كان من النقود أو من غيرها، وسواء كان حالا أو مؤجلا".(كتاب الزكاة،2/24،19،ط:دارالكتب العلمية بيروت)

وفي "بدائع الصنائع":

"ومنها:أن لا يكون عليه دين مطالب به من جهة العباد عندنا، فإن كان فإنه يمنع وجوب الزكاة بقدره، حالا كان أو مؤجلا".(كتاب الزكاة،فصل وأما شرائط الفرضية:2/381 ،ط:رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 175/165،167