بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرض کی رقم پر زکوٰۃواجب ہوگی یا نہیں؟

قرض کی رقم پر زکوٰۃ واجب ہوگی یا نہیں ؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میں نےایک سال پہلےدودھ کی دوکان میں ایک اور آدمی کے ساتھ شریک ہوا،اور چھ مہینےبعدوہ دکان  چھوڑدی   کیونکہ اس سےکچھ نفع نہیں ہواتھا،اوروہ دوسرے پارٹنرکودےدی،اورابھی تک اس کےپیسے وصول نہیں ہوئے،اورپتہ نہیں کہ کب اورکتنےدےگا؟پوچھنایہ ہےکہ کیاجورقم میں نےلگائی تھی اس پرزکوٰۃ لازم ہے؟ابھی نقصان کاپتہ نہیں،برائےمہربانی شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً

جواب

واضح رہے کہ آپ کے پارٹنر(شریک) کے ذمہ آپ کا جودین ہے،وہ دین قوی ہے ، لہذا دین قوی  کی  یہ  رقم خواہ یہ  یکمشت  وصول ہوجائے یاتھوڑی تھوڑی ہوکروصول ہوجائے،تو پچھلے تمام سالوں کی زکوٰۃ اداکرنا آپ کےذمہ واجب ہے،بشرطیکہ اس رقم پرسال گزرچکاہو،خواہ قبضہ سےپہلے ہویابعدمیں،ورنہ اس پرسال گزرنےسے پہلےزکوٰۃ  لازم نہیں۔

لمافي"الدرمع الرد":

"(و)اعلم!أن الديــون عنـــدالإمام ثلاثـة:قوي،ومتوسط،وضعيف؛ف (تجب)زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول،لكن لا فورا بل(عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض(وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم.وقال العلامةابن عابدين تحت:(قوله: إذا تم نصابا) الضمير في تم يعود للدين المفهوم من الديون، والمراد إذا بلغ نصابا بنفسه أو بما عنده مما يتم به النصاب (قوله: وحال الحول) أي ولو قبل قبضه في القوي والمتوسط وبعده الضعيف".(كتاب الزكاة،باب زكاة المال،مطلب:في وجوب الزكاة في دين المرصد:2/281، ط:رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 175/165،167