بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قبر کی جگہ پانی نکل آئے تو کیا پکی اینٹ استعمال کرسکتے ہیں؟

قبر کی جگہ پانی نکل آئے تو کیا پکی اینٹ استعمال کرسکتے ہیں؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ

۱۔۔ اگر قبر سے پانی نکل آئے تو اس میں پکی اینٹیں رکھ کر میت کو دفن کیا جاسکتا ہے، یانہیں ؟

۲۔۔ چند قبریں کھودی گئیں تمام سے پانی نکل آیا ،دوسرا قبرستان  دور ہے تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟ نیز یہ بھی بتادیں کہ دوسرا قبرستان  کتنا دور ہونے کی صورت میں اسی قبرستان میں دفن کرنے کی کیا صورت ہے ؟

جواب

۱،۲۔۔قبر میں پکی اینٹو ں کا استعمال درست نہیں ،تمام قبروں سے پانی نکلنے کی صورت میں میت کو قریب ترین کسی دوسرے قبرستان میں دفنانے کی صورت اختیار کی  جائے۔

لما في الشامية:

 (قوله: ويسوى اللبن عليه) أي على اللحد بأن يسد من جهة القبر ويقام اللبن فيه حلية عن شرح المجمع (قوله: والقصب) قال في الحلية: وتسد الفرج التي بين اللبن بالمدر والقصب كي لا ينزل التراب منها على الميت، ونصوا على استحباب القصب فيها كاللبن. اهـ. (قوله لا الآجر) بمد الهمزة والتشديد أشهر من التخفيف مصباح. وقوله المطبوخ صفة كاشفة. قال في البدائع: لأنه يستعمل للزينة ولا حاجة للميت إليها ولأنه مما مسته النار، فيكره أن يجعل على الميت تفاؤلا كما يكره أن يتبع قبره بنار تفاؤلا.

(كتاب الصلاة،مطلب في الدفن الميت:2/167،ط:رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/72,79