بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موئے مبارک اور دیگر تبرّکات کی زیارت

موئے مبارک اور دیگر تبرّکات کی زیارت

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ بعض جگہ یہ مشہور کہ حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کے بال مبارک رکھے ہوئے ہیں اور آپ کا عمامہ بھی رکھا ہوا ہے ،آیا ایسی چیزوں کی زیارت کے لیے جانا باعث ثواب ہو گا یا باعث گناہ؟رہنمائی فرمائیں۔

جواب

اگر تحقیق سے معلوم ہوجائے  کہ واقعی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے  بال مبارک اور پگڑی مبارک ہیں توان کی تعظیم او رزیارت موجب ثواب اورخیر وبرکت ہے،اوران کی  زیارت کے لیے سفرجائز ہے،بشرطیکہ وہاں زیارت گاہ میں دوسرے مفاسد جو آج کل زیارت گاہوں میں شرکیات، مردوں اور عورتوں کے اختلاط اور بے پردگی وغیرہ کی صورت میں نظر نہ آتے ہوں،لیکن آج کل جو تبرکات مشہو رہیں یہ مستند نہیں اس بارے میں احتیاط ضروری ہے۔
''وَعَنْ أَنس۔رضی اﷲ عنہ۔ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتی مِنی فَأَتَی الْجمرۃَ فَرماہا ثُم أَتی مَنْزلہ بمِنی وَنَحر نُسکہ ثُم دعا بالحَلاق وناول الحالق شِقَّہُ الْأَیْمَنَ ثُمَّ دَعَا أَبَا طَلْحَۃَ الْأنصَاری فَأَعْطَاہُ إِیَّاہُ ثُمَّ نَاوَلَ الشِّقَّ الْأَیْسَرَ فَقَالَ احْلِقْ فَحَلَقَہُ فَأعْطَاہُ طَلْحَۃَ فَقَالَ: اقْسِمْہُ بَیْن النَّاسِ.'' (مشکوٰۃ المصابیح، کتاب المناسک، باب الحلق١/٢٣٢، قدیمی)
''قَالَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الْمُبَارَکِ : الْإِسْنَادُ مِنْ الدِّینِ وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاء َ مَا شَاء َ.'' (مسلم، مقدمۃ، باب الاسناد من الدین:١/١٢، قدیمی).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی