بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

فائیور (Fiverr) کے ذریعے پیسے کمانا حلال ہے یا حرام ؟

فائیور (Fiverr) کے ذریعے پیسے کمانا حلال ہے یا حرام ؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آن لائن ویب سا ئٹ ہے، بنام(Fiverr) جس پر کام کرنے  کا طریقہ کچھ یوں ہے کہ ہم اپنے کام کی تفصیل (Gigs) اس ویب سائٹ پر ڈالتے ہیں ، کہ میں فلاں کام کرسکتا ہوں پھر وہاں آکر لوگ ہمیں کام دیتے ہیں ، مثلاً : ایک کام پروف ریڈنگ کا ملتا ہے، جس میں کوئی بندہ  ہمارے پاس ایک کتاب بھیجتا ہے کہتا ہےکہ اس  میں غلطیاں نکال کرصحیح کر دو پھر  ہمیں وہ اس کام کے پیسے دیتا ہے،البتہ جب ہم اس ویب سائٹ سے پیسے نکلواتے ہیں ، تب ہم سے یہ ویب سائٹ  پیسوں کی کچھ مقدار (تقریباً 5 ڈالر پہ 1 یا 0.75  ڈالر )کاٹ لیتی ہے، اور یہ پیسے اس ویب سائٹ کو جاتے ہیں ،مسئلہ یہ ہے کہ  کیا اس طرح کام کرنا شرعا صحیح ہے، نیز یہ ویب سائٹ اور کمپنی کفار کی ہے اور اس کو چلانے والے یہودی ہیں ( جس کی تفصیل انٹر نیٹ پر موجود ہے) تو کیا ایک یہودی کی یا کفار کی کمپنی کے ساتھ کام کرنایا کاروبار کرنا جائز ہے، اور اس کاروبار سے ظاہراً یہودیوں کو نفع ہوتا ہے، تو  کیا اس صورت میں اس ویب سائٹ  پر کام کرنا جائز ہے؟ راہنمائی فرمائیں ۔

جواب

واضح رہے کہ کفار کے ساتھ کام کرنا جبکہ ان کو نفع ہو اس شرط کے ساتھ جائز ہے، کہ وہ نفع  مسلمانوں کے خلاف استعمال نہ ہوتا ہو، صورت مسئولہ میں مذکورہ کمپنی کے منافع کے استعمال کا یقینی علم نہیں ،کہ وہ مسلمانوں کے خلاف استعمال ہوتا ہے یا نہیں ، لیکن دوسری طرف یہودیوں کی اسلام دشمنی بھی کسی سے مخفی نہیں ، لہذا احتیاط اسی میں ہے کہ اس کمپنی کے ساتھ کام  کرنے اجتناب کیا جائے۔

لمافی الاصل:

وإذا استأجر رجل رجلاً ليكتب له مصحفاً أو فقهاً معلوماً بأجر مسمى (1) فهو جائز، وليس هذا كتعليم القرآن. ولو استأجر رجل رجلاً ليكتب له نَوْحاً أو شعراً أو غناءً معلوماً بأجر مسمى لزمه ذلك، وكان جائزاً، ولا يشبه هذا التعليم.(كتاب الإجارة،باب الإجارة الفاسدة وما لا يجوز منها،4/23، دارالقران)

وفي الهداية:

ولا ينبغي أن يباع السلاح من أهل الحرب ولا يجهز إليهم لأن النبي عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع السلاح من أهل الحرب وحمله إليهم ولأن فيه تقويتهم على قتال المسلمين فيمنع من ذلك وكذا الكراع.(كتاب السير، باب الموادعة، 2/543، رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 175/164