بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیر ملکی رجسٹریشن کرواکر اضافی کمیشن وصول کرنے کا حکم

سال بھر استعمال نہ ہونے والےبرتن ،کپڑے ،پلاٹ اور کرائے پر دئیے ہوئے مکانات پر زکوٰۃ واجب ہےیا نہیں؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میں بحرین میں ایک کمپنی کے ساتھ بطور کورئیر کام کرتا ہوں ،کمپنی ہمیں فی پارسل کمیشن دیتی ہے،اگر میں بطور پاکستانی اپنے نام رجسٹریشن کروا کر کام  کروں ، تو مجھے مثلاً : سو  ۱۰۰ روپے فی پارسل ملتے  ہیں ،لیکن اگر یہی کام بحرین کا مقامی شخص کرے تو اسے  ۱۴۰ روپے ملتے ہیں ، اگر میں اپنے کسی بحرینی دوست کے نام پر رجسٹریشن کرواؤں اور کام میں کرتا رہوں  تو کیا ایسا کرنا جائز ہوگا اور اس صورت میں ملنے والا اضافی کمیشن میرے حلال ہوگایا نہیں ؟رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں بحرینی دوست کے نام پر رجسٹریشن کرواکر اضافی کمیشن وصول کرنا آپ کے لیے جائز نہیں ہے،لہذا وصول کرنے کے بعد اضافی کمیشن آپ کے لئے حلال نہیں ہوگا۔

لما في الصحیح لمسلم:

”عن أبى هريرة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال « من حمل علينا السلاح فليس منا ومن غشنا فليس منا »”.

(کتاب الإیمان ،باب قول النبى صلى الله تعالى عليه وسلم« من غشنا فليس منا »،رقم الحديث:164،ص:57،ط:دار السلام ریاض)

وفي الشامية:

”والحـاصـل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه”.(کتاب البیوع،باب بیع الفاسد،مطلب فیمن ورث مالاً حراماً،7/308،ط:رشیدية)

وفی شرح المجلة لسلیم رستم باز:

”لیس لأحد أن يأخذ مال غيره بلاسبب شرعي ولو على ظن أنه ملكه وجب رده عليه ”.(المقالة الثانية في بيان القواعد الفقهية،الماادة:98،1/62، ط:دارالکتب العلمیة).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 175/214