بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیر مسلم ممالک سے درآمد شدہ گوشت اور غذائی مصنوعات کا حکم

غیر مسلم ممالک سے درآمد شدہ گوشت اور غذائی مصنوعات کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان عظام ان مسائل کے بارے میں:اگر کوئی مسلمان کسی اسلامی ملک میں کسی غیر اسلامی ملک مثلاً: برازیل ، نیوزی لینڈ یا آسٹریلیا سے مرغی کا گوشت خریدے یا درآمد کرے جب کہ اس پر حلال کی مہر لگی ہوئی ہو تو کیا اس مسلمان درآمد کنندہ کے ذمے یہ تحقیق لازم ہے کہ یہ مشینی ذبیحہ ہے یا نہیں؟ جب کہ یہ بات معروف ہے کہ وہاں کی اسلامک کونسل جو حلال سر ٹیفکیٹ کا اجرا کرتی ہیں، ان کے یہاں مشینی ذبیحہ کے جواز کا قول ہے او ران کے نزدیک ہر ہر جانور پر تسمیہ پڑھنا ضروری نہیں، اور بنابر ضرورت اور عمومِ بلوی کے مشینی ذبیحہ کو جائز قرار دیتے ہیں۔
پاکستان میں کام کرنے والی اکثر غیر ملکی غذائی کمپنیاں جو مرغی کے گوشت سے بنی ہوئی مختلف اقسام کی اشیاء فروخت کرتی ہیں ان میں سے اکثر اور بعض مرغی سے بنی ہوئی کچھ غذائی اشیاء غیر اسلامی ملک سے درآمد کرتی ہیں اور بسا اوقات ان کے پاس حلال سر ٹیفکیٹ بھی نہیں ہوتا جو وہ صارف کو دکھا سکیں، اب کیا اس صورت میں کوئی مسلمان جس کو اس بات کا علم ہو کہ یہ غیر ملکی درآمد شدہ غذائی اشیاء ہیں تو وہ مسلمان یہ غذائی اشیاء خریدتے وقت اس تحقیق کا مکلف ہے کہ یہ مشینی ذبیحہ ہے یا نہیں؟ یا اسلامی ملک میں یہ حکومتِ وقت کی ذمے داری ہے اور عام مسلمان اس تحقیق سے بری ہے ۔ کیوں کہ اگر ان غذائی کمپنیوں سے نہیں پوچھا جائے گا جیسا کہ اب تک ہو رہا ہے تو اس کا شیوع بڑھنے کا امکان ہے ، جو تقریباً حقیقت میں تبدیل ہو چکا ہے، اب تک کوئی ان غیر ملکی فوڈچین سے حلال سر ٹیفکیٹ کا مطالبہ بھی نہیں کرتا او رنہ ہی یہ اس کے حصول کی کوشش کرتی ہیں او رحکومت کی طرف سے فی الوقت کوئی قانونی ہدایات واضح معیار کی صورت میں موجود نہیں ہیں ، ایسی صورت میں ایک دین دار مسلمان کی کیا ذمے داری ہے؟

جواب 

غیر مسلم ممالک سے درآمد کیا جانے والا گوشت مسلمانوں کے لیے اس وقت حلال ہو گا جب وہ لوگ ذبح کی شرعی شرائط کی رعایت کریں ، جب تک ان شرائط کی رعایت کا یقین نہ ہو جائے ، اس وقت تک ان کا ذبیحہ حلال نہیں ہے اگر چہ اس پر حلال کی مہر لگی ہو ، کیوں کہ یہ شہادت قابلِ اعتماد نہیں ہے ، نیز یہی حکم مرغی کے گوشت سے بنی ہوئی ان غذائی اشیاء کا بھی ہے جو ان غیر مسلم ممالک سے درآمد کی جاتی ہیں۔

رہی یہ بات کہ اس درآمد شدہ گوشت کے بارے میں مشینی یا غیر مشینی، حلال یا حرام کی تحقیق کا مکلف کون ہے ؟ ایک عام مسلمان یا حکومت وقت؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات تو مسلم ہے کہ یہ عام طور پر مشینی ذبیحہ ہوتا ہے جس میں ذبح کے شرعی اصولوں کی رعایت نہیں رکھی جاتی تاہم یہ حکومت وقت کی ذمے داری ہے کہ ان کمپنیوں کے ذمے داروں سے اس بات کا مطالبہ کرے کہ وہ ذبح میں شریعتِ اسلامیہ کے احکام کے موافق طریقہ اختیار کریں او رپھر مستند علماء کرام وماہرین کے ذریعے ان کے طریقہ کار کی جانچ پڑتال کروائے ، لیکن بہ ظاہر حکومت وقت کو اس اہم ترین فریضہ کی فرصت کہاں، اس لیے علماء کرام کو اپنے طور پر اس بات کا اہتمام کرنا چاہیے یا ان ممالک میں آباد علماء کی توجہ اس طرف مبذول کروانے میں حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے ، البتہ ایک عام مسلمان کے لیے حکم یہ ہے کہ جب تک اس گوشت کی حلت کا یقین نہ ہو اسے استعمال نہ کرے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی