بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیر مستحق طلباء کے لیے اسکالر شپ لینا،اسکالر شپ کے حصول کے لیے فارم پر انکم کی تفصیل غلط درج کرنا

غیر مستحق طلباء کے لیے اسکالر شپ لینا،اسکالر شپ کے حصول کے لیے فارم پر انکم کی تفصیل غلط درج کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ حکومت کی طرف سے اسکول کے اقلیت سماج کے بچوں کو پڑھنے کے لیے اسکالر شپ دی جاتی ہے،اس اسکالر شپ میں کچھ شرطیں ہوتی ہیں ،جیسے کہ طلباء کے پریوار کی سالانہ انکم زیادہ سے زیادہ دو ۲ لاکھ ہونی چاہیے، کچھ اسکولوں میں کیا ہوتا ہے کہ اسکول والے خود سے فارم بھرتے ہیں اور سبھی بچوں کی انکم ۲ لاکھ سے کم لکھتے ہیں تاکہ سبھی بچوں کو اسکالر شپ حاصل ہوجائے ۔

۱۔ جس بچے کی انکم دو لاکھ سے زیادہ ہوگی کیا اس کے لیے یہ رقم حلال ہوگی؟ اگر کسی بچے نے یہ رقم اپنی پڑھائی پر یا کسی دوسری چیز پر خرچ کردی ہے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟

۲۔ زید (ایک طالب علم )کی فیملی انکم ہر سال مستحکم نہیں رہتی ، کم زیادہ ہوتی رہتی ہے، تو وہ کون سی انکم کو معیار مان کر فارم بھرے گا۔

۳۔ نیز آ  ج کے دور میں دور میں جو انکم سرٹیفکٹ سرکار کی طرف سے بنوایا جاتا  ہے اس کا اسلام میں کیا حکم ہے؟ کیا اس میں انکم بالکل عین مطابق لکھنا ضروری ہے، کچھ لوگ اپنی انکم صحیح نہیں لکھتے ہیں  ان کے لیے کیاحکم ہے؟

جواب

۱۔صورت مسئولہ کے مطابق حکومت کی طرف سے اسکالر شپ کا مستحق ان طلباء کو ٹھہرایا گیا ہے ، جنکی سالانہ گھریلو آمدنی دو لاکھ سے کم ہے ،جن بچوں کی سالانہ گھریلو آمدنی دو لاکھ سے زائد ہے ،ان کے لیے  یہ رقم لینا درست نہیں ۔

۲۔حکومت کا جو ضابطہ ہے اس کے مطابق عمل کیا جائے۔

۳۔سرکار کی طرف سے بنائے جانے والے انکم سرٹیفکیٹ پر انکم کی درست تفصیل درج کی جائے،غلط لکھنے کی صورت میں جھوٹ ہو گا،جس سے احتراز ضروری ہے۔

لما في الصحيح للمسلم:

"عن أبي هريرة:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من حمل علينا السلاح،فليس منا ومن غشنا،فليس منا.(كتاب الإيمان:رقم الحديث:101،1/70،ط:بيت الأفكار)

وفي فيض الباري:

"فالوجه فيه أنهم صرحوا أن المباح في نفسه قد يصير حراما من حكم الأمير من جهة أن الله أمر بطاعتهم، فقال: أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم".(كتاب الأذان:2/587،ط:دارالضياء).

وفي الصحيح للمسلم:

"عن أبي هريرة:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:آية المنافق ثلاث ،إذا حدث كذب وإذا وعد أخلف وإذا ائتمن خان". (كتاب الإيمان:رقم الحديث:108،1/78،ط:دارالسلام)

وفي التنوير:

ويجب رد عين المغصوب، ........وتجب القيمة في القيمي يوم غصبه.(كتاب الغصب:9/305،ط:رشيدية)

وفي التنوير:

 وشرعا:"إزالة يد محقةبإثبات يد مبطلة". (كتاب الغصب:9/299،ط:رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 175/17،19