بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عید میلاد ابراہیمی کا حکم

عید میلاد ابراہیمی کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ کیا عید میلاد ابراہیم منانا جائز ہے؟ کیا اس کا ثبوت قرآن وحدیث سے ہے؟ یہ کن لوگوں کے تہواروں میں سے ہے ؟ اور اگر کوئی اس کو جائز قرار دے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آیا وہ گناہ گار ہو گا یا ثواب کا حق دار ہو گا؟ آخری بات یہ معلوم کرنی ہے کہ عید میلاد ابراہیم ہے کیا چیزہے؟

جواب

کسی بھی پیغمبر کا ذکر مبارک مطلقا ً خواہ ذکر ولادت ہو یا ذکر عبادت ومعاملات وغیر ہ بلاشبہ باعث برکت وخیر ہے، لیکن مروجہ میلاد النبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرح جو میلاد بھی منایا جائے بے اصل، بدعت اور ناجائز ہے،صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم، تابعین، ائمہ مجتہدین اورعلمائے حق میں سے کسی نے بہئیت مخصوصہ کسی کا میلاد نہیں منایا اور نہ ہی اس کے ثبوت پر کوئی دلیل شرعی موجود ہے،اس لیے اس طرح کی محفل میلاد ابراہیم میں شرکت ناجائز اور اس سے اجتناب ضروری ہے۔

''(البدعۃ) ماأخدث علی خلاف الحق الملتقی عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ عِلْمٍ أَوْ عَمَلٍ أَوْ حَالٍ بِنَوْعِ شُبْہَۃٍ وَاسْتِحْسَانٍ وَجُعِلَ دِینًا قَوِیمًا وَصِرَاطًا مُسْتَقِیمًا.''(رد المحتار، باب الإمامۃ١/٥٦٠، سعید)

'' وقال العلامۃ المناوی فی فیض القدیر تحت حدیث '' من أحد فی أمرنا ھذا الخ : أی النشاء واخترع وأتی بأمر حدیث من قبل نفسہ۔۔ (مالیس منہ) أی رایاً لیس لہ من الکتاب أو السنۃ عاضد ظاہر أو خفی، ملفوظ أو مستنبط (فھورد): أی مردود علی فاعلہ لبطلانہ.'' (١١/٥٥٩٤، رقم الحدیث: ٨٣٣٣، مکتبہ نزار مصطفی)

'' وقال صاحب جامع الأصول: الابتداع من المخلو قین إن کان فی خلاف ما أمر اﷲ تعالیٰ بہ ورسولہ صلی اﷲ علیہ وسلم فھو فی حیز الذم والإنکار۔۔ الخ( روح المعانی تحت قولہ: ورھبانیۃ ابتدعوھا ٢٧/١٩٢، دار احیاء التراث)

''وفی مجموعۃ الفتاوی علی ھامش خلاصۃ الفتاوی: ''ذکر مولود شریف یعنی وقائع ولادت ومعجزات بیان کردن خواہ ملک ہند باشد باسند۔۔۔۔۔۔ جائز است کے اہل اسلام رادرین کلام نیست الخ.(کتاب الکراھیۃ٤/٢٣٥، امجد اکیڈیمی).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی