بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عید میلادالنبیﷺ منانا

عید میلادالنبیﷺ  منانا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ عید میلادالنبی ﷺمنانا کیساہے؟

جواب

عید میلاد النبی ﷺمنانے کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اسلام میں دو عیدیں ہیں:عیدالفطر اور عیدالاضحی،ان دو عیدوں کے علاوہ کسی تیسری عید کا ثبوت نہیں،اپنے یوم ولادت پر نہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے عید منائی،نہ خلفاء راشدین نے، نہ صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے ،نہ تابعین اور سلف و صالحین نے حتی کہ چھ صدیوں تک آپ کی پیدائش کا دن جشن عیدمیلادالنبی کے نام سے منانے کا ذکر کہیں نہیں ملتا،جس چیز کا ثبوت دلائل شرعیہ سے نہ ہو اور اسے شریعت کا حکم سمجھ کر کیا جائے وہ بدعت شمار ہوگی اور بدعت ضلالت و گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے۔

البتہ آپ کی ولادت مبارکہ کا ذکرِ خیر ہر وقت باعث برکت ہے، بشرطیکہ ایسے افعال و اعمال سے اجتناب کیا جائے،جس کا ثبوت قرآن و حدیث ا ور اجماع امت و سلف صالحین کے اقوال و افعال میں نہیں۔

''(البدعۃ) ماأخدث علی خلاف الحق الملتقی عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ عِلْمٍ أَوْ عَمَلٍ أَوْ حَالٍ بِنَوْعِ شُبْہَۃٍ وَاسْتِحْسَانٍ وَجُعِلَ دِینًا قَوِیمًا وَصِرَاطًا مُسْتَقِیمًا.''(رد المحتار، باب الإمامۃ١/٥٦٠، سعید)

'' وقال العلامۃ المناوی فی فیض القدیر تحت حدیث '' من أحدث فی أمرنا ھذا الخ : أی انشاء واخترع وأتی بأمر حدیث من قبل نفسہ۔۔ (مالیس منہ) أی رایاً لیس لہ من الکتاب أو السنۃ عاضد ظاہر أو خفی، ملفوظ أو مستنبط (فھورد): أی مردود علی فاعلہ لبطلانہ.'' (١١/٥٥٩٤، رقم الحدیث: ٨٣٣٣، مکتبہ نزار مصطفی)

'' وقال صاحب جامع الأصول: الابتداع من المخلو قین إن کان فی خلاف ما أمر اﷲ تعالیٰ بہ ورسولہ صلی اﷲ علیہ وسلم فھو فی حیز الذم والإنکار۔۔ الخ( روح المعانی تحت قولہ: ورھبانیۃ ابتدعوھا ٢٧/١٩٢، دار احیاء التراث)

''وفی مجموعۃ الفتاوی علی ھامش خلاصۃ الفتاوی: ''ذکر مولود شریف یعنی وقائع ولادت ومعجزات بیان کردن خواہ ملک ہند باشد باسند۔۔۔۔۔۔ جائز است کے اہل اسلام رادرین کلام نیست الخ.(کتاب الکراھیۃ٤/٢٣٥، امجد اکیڈیمی).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی