بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عورت کو پانچ سے زائد کپڑوں میں کفن دینا

عورت کو پانچ سے زائد کپڑوں میں کفن دینا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ عورت( میت )کو پانچ کپڑوں میں کفن پہنایا جاتا ہے،لیکن  بعض علاقوں میں کچھ لوگ پانچ سے زائد، ایک اضافی کپڑا عورت (میت ) کی پیشانی پر باندھتے ہیں، اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ عمل (اضافی کپڑا عورت کے کفن  میں استعمال کرنا) شرعا جائز ہے، یا نہیں ؟

جواب 

عورت کے لیے مسنون کفن پانچ کپڑے ہیں،لہذا پانچ  کپڑوں سے زائد میں عورت کو کفن دینا خلاف سنت ہے ۔

لما في المبسوط:

قال: "وتكفن المرأة في خمسة أثواب والرجل في ثلاثة أثواب" هكذا قال علي رضي الله عنه كفن المرأة خمسة أثواب وكفن الرجل ثلاثة أثواب، "{وَلا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ}[البقرة: 190] ولأن حال كل واحد منهما بعد الموت معتبر بحال الحياة والرجل في حياته يخرج في ثلاثة أثواب عادة قميص وسراويل وعمامة والمرأة في خمسة أثواب درع وخمار وإزار وملاءة ونقاب فكذلك بعد الموت.كتاب الصلاة،باب غسل الميت،660/1،ط:حقانية). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/338