بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عورت کب خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے

عورت کب  خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہرکینسر کے مرض سےانتقال کر گئے میری تین یتیم بیٹیاں ہیں،انتقال کے پانچ ماہ بعد میرے شوہر کے دور کے رشتہ کے بہنوئی نے مجھے اور میرے یتیم بچوں کو سہارا  اور کفالت کے بہانے سے مجھ سے نکاح کیا اور دو ہفتوں کے دوران میرے ساتھ صرف چار دن رہے اور بغیر کسی وجہ کے بغیر بتائےمیرےیتیم بچوں کے زکوۃ اور خیرات کے پیسے تقریبا بیس ہزار روپے ادھار کے بہانے لے کر چلے گئے،نومہینے ہو چکے ہیں وہ مجھ سے کسی بھی قسم کا رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کرتے ،نہ ہی میرے پاس آتے ہیں ،وہ اپنی پہلی بیوی کے ساتھ خیرآبادمیں رہتے ہیں، وہاں کئی بارجا چکی ہوں ،وہ اپنے گھر نہیں بلاتے بلکہ روڈ پر یہ کہہ کر بھگا دیتے ہیں کے وہاں آکے تمہیں فارغ کر دوں گا ، مگر آتے نہیں ،ان کا نو ماہ کا بچہ میرے پیٹ میں ہے ،اور میری حالت اس وقت بہت خراب ہے ،حق مہر جو انہوں نے نکاح کے وقت دینے کا وعدہ کیا تھا وہ ڈیڑھ لاکھ روپے اور ساٹھ گز کا مکان  جو اب تک مجھے نہیں دئیے ،دھوکہ کے علاوہ برائے مہر بانی شریعت مطہرہ کی روشنی میں کیا مجھے خلع لینے  کی اجازت ہے ؟فتوی عنایت فر مائیں، شکریہ ۔

جواب

اسلامی تعلیمات کا اصل رخ یہ ہے کے نکاح کا معاملہ و معاہدہ عمر بھر کے لئے ہو، اس کے ٹوٹنے اور ختم ہونے کی کبھی نوبت ہی نہ آئے،کیونکہ جدائی کا اثر فریقین ہی پر نہیں پڑتا ،بلکہ اس کی وجہ سے نسل واولاد کی تباہی وبربادی ہوتی ہے ، اور بعض اوقات خاندانوں اور قبیلوں میں فساد تک کی نوبت آجاتی ہے،کبھی کبھار فریقین میں سے کسی کو طبعی طور پر ایک دوسرے کی جانب سے کچھ ناگواری ہو جائے، تو نفس کو سمجھا بجھا کر در گزر کر دینا چاہئے ،رشتے کو نبھانا ضروری امر ہے، مردوں کو حضور ﷺ نے کئی طرح سمجھایا ہے،اورنبھانے  کا حکم دیا ہے، ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ:کوئی مرد کسی عورت سے بغض نہ رکھے،کیونکہ اگراس کی کوئی خصلت ناگوار ہوگی ، تو دوسری خصلت پسند آجائے گی،اور عورتوں کو تعلیم دی ہے کہ:طلاق کا سوال نہ اٹھائیں نبھانے  کی کوشش کریں، جب دو آدمی ایک ساتھ رہتے ہیں ،تو کبھی کچھ نہ کچھ ناگواری کی صورت سامنے آ ہی جاتی ہے،اس پر صبر کرنا چا ہئے،لیکن بعض اوقات اس تعلق کو ختم کر دینا ہی طرفین کے لئےراحت وسلامتی کا باعث بن جاتا ہےاس لئےجس طرح شریعت نےمرد کو طلاق کا اختیاردیا ہے،تو عورت کو اس حق سےمحروم نہیں رکھا کہ:وہ شوہر کاظلم وستم سہنے پر مجبور ہی رہے، بلکہ اس کو بھی حق دیا ہے کہ اگر شوہر سے نباہ ممکن نہ ہو تو اس سے خلع لےلے،خلع بھی نکاح اور دیگر شرعی معاملات کی طرح ایک عقد(معاملہ)ہے جس میں ایجاب و قبول میں میاں بیوی کی باہمی رضامندی ضروری ہے ،لہذااگر آپ کا اپنے شوہر  سے نباہ ممکن نہیں ہے، تو آپ خلع لے سکتی ہیں ، لیکن خلع میں جانبین(میاں،بیوی)کی رضا مندی ضروری ہے ، یک طرفہ خلع کا اعتبار نہیں ہوتا ۔

لما في التنزيل:

فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ... اللآية(بقرة:229)

وفيه أيضا :

 وقال أبو حنيفة وزفر وأبو يوسف ومحمد: إذا كان النشوز من قبلها حل له أن يأخذ منها ما أعطاها ولا يزداد وإن كان النشوز من قبله لم يحل له أن يأخذ منها شيئا فإن فعل جاز في القضاء .(باب الخع: 1/533’535قديمي كتب خانه)

وفي التاتار خانية:

ولايصح كلام المرأة ند غيبة الزوج إذا لم يقبل احد وفي شرح الطحاوي : حتى لو بلغ الزوج فأجاز لم يجز.(كتاب الطلاق ،الفصل:16 الخلع:5/9 ط:فاروقيه كويته)

وفي ردالمحتار:

وأما ركنه: فهو كما في البدائع إذا كان بعوض الإيجاب والقبول،لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول(كتاب الطلاق،باب الخلع :5/89 ط: رشيديه ).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 175/227