بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عورت کا قبرستان جانے کا حکم

عورت کا قبرستان جانے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ عورت کو  قبرستان جانا  چاہیے؟ چاہے کوئی محرم ساتھ ہو،  یا نہ ہو  ؟  یہ جائز ہے ،یا نہیں ؟ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

جوان عورت کا قبرستا ن جانا جائز نہیں ، البتہ بوڑھی عورت کو فقہاء کرام نے مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ جانے کی اجازت دی ہے :

۱۔ خوب پردہ کے ساتھ جائے ۔

۲۔وہاں پر شرک وبدعت، رونا ،دھونا اور نوحہ نہ کرے ۔

۳۔قبر پر پھول اور چادر نہ چڑھائے ۔

۴۔ صاحب قبر سے نہ کچھ مانگے اور نہ کوئی منت مانے، مذکورہ شرائط کے ساتھ جانے کی اجازت ہے ۔

لمافي عمدة القاري:

وإما الشواب فلا يؤمن من الفتنة عليهن وبهن حيث خرجن ولا شيء للمرأة أحسن من لزوم قعر بيتها ولقد كره أكثر العلماء خروجهن إلى الصلوات فكيف إلى المقابر.(كتاب الجنائز،باب زيارة القبور،8100،دارالكتب).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 175/74،78