بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عمر رسیدہ نو مسلم افراد کے ختنہ کا حکم

عمر رسیدہ نو مسلم افراد کے ختنہ کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام مسئلہ ہذاکے کے بارے میں اس وقت تبلیغی جماعتوں کا بیرون ممالک میں بکثرت جانا ہوتا ہے ، ان ممالک میں بہت سے ( بڑی عمروں والے) افراد اسلام میں بھی داخل ہوتے ہیں ۔

ان نو مسلموں کے لیے اُن ممالک میں ( ہرفقہ حنفیہ، شافعیہ، حنابلہ او رمالکیہ سے منسلک افراد کے لیے) ختنہ کا کیا حکم ہے؟

ائمہ اربعہ رحمہم الله کے نزدیک ختنہ کا کیا حکم ہے؟

کتب حنفیہ میں ختنہ کے مسنون ہونے کا قول ملتا ہے کیا عمل سنت کی ادائیگی کے لیے واجب (حفظ النظر إلی العورة الغلیظة) کو ترک کیا جاسکتا ہے ؟

جواب 

ختنہ کرنا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی سنت ہے اور یہ شعائر اسلام میں داخل ہے ، احادیثِ مبارکہ میں اس عمل کے اہتمام کی بہت تاکید آئی ہے ، فقہائے کرام نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اگر شہر کے تمام افراد ترکِ ختنہ پر متفق ہو جائیں تو حاکمِ وقت ان سے قتال کر سکتا ہے۔

عن أبی ھریرة رضی الله عنہ ، عن النبی صلی الله علیہ وسلم قال : ” خمس من الفطرة: الختان، والاستحداد، وتقلیم الأظفار، ونتف الإبط، وقص الشارب“․( المصنف لابن أبي شیبة، کتاب الطھارة، رقم الحدیث:195/1,2059، دارالسلفیة)

الختان سنة کما جاء في الخبر وھو من شعائر الإسلام وخصائصہ، حتی لواجتمع أھل بلدٍ علی ترکہ، یحاربھم الإمام، فلا یُترَک إلا للضرورة وعذرُ الشیخ الذي لا یطیق ذٰلک ظاہرٌ، فیُترک․ (البحر الرائق، کتاب الخنثیٰ، مسائل شتّی:359/9، دارالکتب العلمیة)․

مذکورہ تفصیل کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب یہ ہیں:

اگر کوئی شخص بلوغت کے بعد اسلام قبول کرے تو اس کے لیے ختنہ کروانا لازم ہے ، البتہ نو مسلم اگر بڑی عمر والا ہو ، ضعیف وکمزور ہو ، ختنہ کی تکلیف برادشت نہ کرسکتا ہو او رکوئی ماہر، دین دار ڈاکٹر بھی اس کے لیے ختنہ کروانے کو جان لیوا قرار دے دے تو ایسے شخص کے لیے ختنہ نہ کروانے کی گنجائش ہے، تاہم ایسے شخص پر قضائے حاجت کے وقت نہایت اہتمام سے صفائی کرنا لازم ہو گا۔

عن قتادة الرھاوي قال أتیت رسول الله صلی الله علیہ وسلم فأسلمتُ، فقال لي:” یا قتادة اغتسل بماءٍ وسدرٍ واحلق عنک شعرَ الکفر“․ وکان رسول الله صلی الله علیہ وسلم یأمر من أسلم أن یختتن، وکان ابن ثمانین سنةً․ (المعجم الکبیر للطبراني، قتادة الرھاوي، رقم الحدیث:344/12,15363، مکتبة دار ابن تیمیہ)․ (الأدب المفرد، الختان للکبیر، رقم الحدیث:1225، ص:711، مکتبة المعارف، الریاض)

واختلفو في الختان، قیل:”إنہ سنة“، وھو الصحیح… الشیخ الضعیف إذا أسلم ولا یطیق الختان، إن قال أھل البصر لا یطیق، یُترَک، لأن ترک الواجب بالعذر جائز، فترک السنة أولی، کذا في الخلاصة․(الفتاویٰ الھندیة، کتاب الکراھیة، الباب التاسع عشر في الختان:357/5، رشیدیہ)

قال في السراج:” وھو سنة عندنا للرجال والنساء“، وقال الشافعي: ”واجب علیھما“ ، و في الفتح:” یُجبَر علیہ إن ترکہ إلا إذا خاف علیہ الھلاک وإن ترکتہ لا“․(حاشیة الطحاوي علی المراقي، کتاب الطھارة، فصل مایوجب الاغتسال:98/1، دارالکتب العلمیة)

ائمہ اربعہ میں سے امام شافعی وامام احمد بن حنبل رحمہما الله کے نزدیک ختنہ کروانا واجب ہے اور امام ابوحنیفہ وامام مالک رحمہما الله ختنہ کے سنت ہونے کے قائل ہیں، تاہم سب کے نزدیک یہ شعائر اسلام میں سے ہے۔

الختان واجب علی الرجال والنساء عندنا وبہ قال کثیرون من السلف، کذا احکاہ الخطابي، وممن أوجبہ أحمد، وقال مالک وأوبوحنیفة سنة فی حق الجمیع․( المجموع شرح المھذب، کتاب الطھارة،باب السواک:366/1، دارالفکر)

فأما الختان: فواجب علی الرجال ومکرمة في حق النساء، ولیس بواجب علیھن․(المغني لابن قدامہ، کتاب الطہارة فصول في الفطرة، فصل:115/1، دارعالم الکتب)

واختلفوا في الختان، قیل: ” إنہ سنة“ وھو الصحیح ، کذا في الغرائب․( الفتاویٰ الھندیة، کتاب الکراھیة، الباب التاسع عشر في الختان:357/5، رشیدیة)

(والختان للرجال) فإنہ (سنة مؤکدة) في حق الصغیر والکبیر․(الفواکہ الدواني، باب فی الفطرة والختان:394/2، دارالکتب العلمیة)․ (الموسوعة الفقھیة الکویتیة، ختان:27/19، وزارة الأوقاف الشئون الإسلامیة)

احناف کے نزدیک ختنہ کروانا سنت ہے ، لیکن بچپن میں ختنہ نہ ہونے کی صورت میں بلوغت کے بعد یا اسلام قبول کرنے کے بعد ختنہ کروانا لازم ہے ، اس عمل میں اگرچہ شرم گاہ کی طرف دیکھنا لازم آتا ہے، لیکن ختنہ کی ضرورت کی وجہ سے شریعت میں اس کی اجازت دی گئی ہے، اس لیے اس عمل مسنون کی ادائیگی میں ترکِ واجب لازم نہ آئے گا، تاہم اس عمل کے دوران ڈاکٹر پر لازم ہے کہ وہ بلاضرورت شرم گاہ پر نظر ڈالنے سے گریز کرے۔

وأما النظر إلی العورة لأجل الختان، فلیس فیہ ترک الواجب لفعل السنة، لأن النظر مأذون فیہ للضرورة․ ( رد المحتار مع الدارالمختار، کتاب الحج، مطلب في مکة:505/3، دار عالم الکتب)

یحل للرجال أن ینظر من الرجل إلیٰ سائر جسدہ إلا مابین السرة والرکیة إلا عند الضرورة، فلا بأس أن ینظر الرجل إلیٰ موضع الختان لیختنہ ویداویہ بعد الختن․( بدائع الصنائع، کتاب الاستحسان:123/5، دارالکتب العلمیة الطبعة الثانیة،1406ھ)

إذا جاء عذر فلا بأس بالنظر إلیٰ عورة لأجل الضرورة، فمن ذٰلک أن الخاتن ینظر ذٰلک الموضع والخافضة کذٰلک تنظر، لأن الختان سنة، وھو من جملة الفطرة في حق الرجال لا یمکن ترکہ․ ( المبسوط للسرخسي، کتاب الاستحسان، النظر إلیٰ الأجنبیات:163/10، الغفاریة، کوئتة)․ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی