بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

علیحدگی کے بعد بچوں کا پرورش کا حقدار کون ہوگا،اوران کے اخراجات کس پر ہوں گے؟

علیحدگی کے بعد بچوں کا پرورش کا حقدار کون ہوگا،اوران کے اخراجات کس پر ہوں گے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ

۱۔ اگر میاں بیوی کا ازدواجی زندگی میں نباہ نہ ہوسکے ، اور عورت کو طلاق ہوجائے ،اور میاں بیوی میں بچے کے متعلق اختلاف ہوجائے تو بچے کی پرورش کا حق دار کون ہوگا،شوہر،یا بیوی؟

۲۔ کیا یہ بچہ تمام عمر ماں کے پاس رہے گا،یا کچھ مدت کے بعد والد لینے کا حقدار ہوگا،جبکہ فی الحال بچے کی عمر ساڑھے پانچ سال ہے؟

۳۔ جتنی عمر ماں کے پاس رہے گا،تو اس کے تمام تر اخراجات کس کے ذمے ہوں گے،اور دور حاضرکے حساب سے ماہانہ بچے کا نان نفقہ اور تعلیمی اخراجات کتنے ہونے چاہیں۔

جواب

۱۔صورت مسئولہ میں  بچے کی عمر چونکہ ساڑھے پانچ  سال  ہے  ، لہذا  پرورش  کا حق  والدہ کوہے ۔

۲۔ بچہ اس وقت  تک  اپنی ماں کے پاس رہے گا  ، جب تک  کہ(اتنا بڑا نہ ہوجائے  کہ) وہ  خود کھا ، پی  سکے  اور پیشاب  یا پاخانہ سے  طہارت حاصل کر سکے  ،جس کی مدت    سات سال ہے  ،لہذا  ڈیڑھ سال کے  بعد  اس کو والد  کے حوالے کیا جائے گا ۔

۳۔  بچہ کے تمام تر  اخراجات والد کے  ذمہ ہوں گے  ، البتہ  والد پر اس کی  حیثیت کے مطابق   اور بچے کی  ضروریات  کے مطابق خرچہ دینا لازم  ہوگا ۔

لمافي الهداية :

"والأم والجدة أحق بالغلام حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده ويستنجي وحده ...ووجهه أنه إذا استغنى يحتاج إلى التأدب والتخلق بآداب الرجال وأخلاقم والأب أقدر على التأديب والتثقيف والخصاف رحمه الله قدر الاستغناء بسبع سنين اعتبارا للغالب والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض لأن بعد الاستغناء تحتاج إلى معرفة آداب النساء والمرأة على ذلك أقدر وبعد البلوغ تحتاج إلى التحصين والحفظ والأب فيه أقوى وأهدى".(كتاب الطلاق ،باب حضانة الولدومن أحق به:2/414 ط :امير حمزه )

وفي الدر مع الرد :

"(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية.. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى. حتى يستغني عن النساء) بأن يأكل ويشرب ويستنجي وحده، والمراد بالاستنجاء تمام الطهارة بأن يتطهر بالماء بلا معين، وقيل مجرد الاستنجاء وهو التطهير من النجاسة وإن لم يقدر على تمام الطهارة زيلعي أي الطهارة الشاملة للوضوء. (قوله: وقدر بسبع) هو قريب من الأول بل عينه لأنه حينئذ يستنجي وحده، ألا ترى إلى ما يروى عنه صلى الله عليه وسلم  أنه قال: «مروا صبيانكم إذا بلغوا سبعا» والأمر بما لا يكون إلا بعد القدرة على الطهارة زيلعي. (قوله: وبه يفتىِ".(كتاب الطلاق :5/273-275 ، ط : رشيدية )

وفي الهداية :

"ونفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كما لا يشاركه في نفقة الزوجة لقوله تعالى { وعلى المولود له رزقهن } والمولود له هو الأب".(كتاب الطلاق :2/423 ، ط: امير حمزه ).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 175/193،197