بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

علم نجوم پر اعتقاد اور نجومیوں سے معاملات کا حکم

علم نجوم پر اعتقاد اور نجومیوں سے معاملات کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام علم نجوم کے بار ےمیں کیا علم نجوم قرآن کریم سے ثابت ہے ؟جیسے کہ بعض لوگ سورہ نحل کے دوسرے رکوع آیت نمبر (۱۲)سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں او رکہتے ہیں کہ جس طرح حضرت علیؓ نے حساب کیا تھا، اس طرح محکمہ موسمیات والے حساب کرکے بتاتے ہیں ، اور جس طرح الٹراساؤنڈ والے بتاتے ہیں کہ یہ لڑکی ہے یا لڑکا، حتی کہ بچے کی تاریخ پیدائش اور دن بھی بتا دیتے ہیں، اس کا علم غیب سے کوئی تعلق نہیں، نجومی بھی بتاتے ہیں کہ اس ہفتے میں کاروبار کریں بہت فائدہ ہو گا، اس مہینے اور اس ہفتے میں کاروبار نہ کریں ،ورنہ بہت نقصان ہو گا، نجومیوں کا ایک گروہ ہے، جو اپنے لٹریچر کے ذریعے بڑے بڑے مذہبی گھرانوں کے بچوں کوگمراہ کر رہا ہے اور سفید پوش لوگوں کو بھٹکارہا ہے۔ لہٰذا علماء امت سے درخواست ہے کہ ہمیں قرآن وحدیث اور دلائل کے ساتھ بتایا جائے کہ آیا نجومیوں کے ساتھ اٹھنا، بیٹھنا کھانا پینا، لین دین او ران سے دوستی رکھنا علم نجوم پر ایمان رکھنا، نجومیوں کے کہنے پر کاروبار کرنا اور ان کی بتائی ہوئی بات پر یقین کرنا جائز ہے، یا گناہ؟ براہ کرام قرآ ن وحدیث کی عربی عبارت کے ساتھ ؟اردو میں بھی تفصیلی جواب دیں کہ علم نجوم کو ماننا چاہیے یا نہیں؟

جواب

علم نجوم کی دو قسمیں ہیں: ایک حسابی، دوسرا استدلالی، علم نجوم حسابی حق ہے ،اور قرآن کریم میں کئی جگہ آیا ہے، مثلاً:﴿ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ، وَعَلَامَاتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ ، وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ.﴾ اس سے مراد یہ ہے کہ شمس وقمر کی حرکات جن پر انسانی زندگی کے تمام کاروبار موقوف ہیں، رات دن کا اختلاف، موسموں کی تبدیلی ،سال مہینوں کی تعیین ، ان کی تمام حرکات اور دورں کا نظام محکم ایک خاص حساب اور اندازے کے مطابق چل رہا ہے۔

 علم نجوم استدلالی یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی قدرت اور فیصلے سے جو حوادث پیش آنے والے ہیں، ان پر افلاک کی حرکت اور ستاروں کی گردش سے استدلال کرنا علم نجوم کی پہلی قسم سےتو جائز ہے ،لیکن اس کے سیکھنے کی اجازت بھی اس حد تک ہے کہ قمری مہینوں کی ابتداء،نمازوں کے اوقات اور قبلہ، نیز بحری سفر کے وقت ،سمت وغیرہ معلوم ہو جائے، اس سے زیادہ سیکھنے میں حرج ہے ،بلکہ بعض فقہاء نے اس کو حرام قرار دیا ہے، حضرت عمرؓ کا ارشاد ہے کہ ”علم نجوم اتنا سیکھو جس کے ذریعے تم خشکی اور سمندر میں را ہنمائی حاصل کرسکو، اس سے زائد نہ سیکھو، علم نجوم حاصل کرنے سے جو روکا جاتا ہے اس کی کئی وجوہات ہیں (۱)  عقیدے کے لیے ضرر رساں ہے وہ اس لیے کہ ستاروں کے ذریعے جب کسی بات کا اندازہ ہو جاتا ہے تو عوام ستاروں کو مؤثر سمجھنے لگتے ہیں جو کہ شرک ہے۔(۲)نجوم سے جو احکام ثابت ہوتے ہیں وہ سب تخمینے پر مبنی ہوتے ہیں۔ (۳)  اس میں کوئی فائدہ نہیں اس لیے کہ جو تقدیر میں لکھا ہے وہ ہو کر رہے گا، اس سے بچنا ممکن نہیں ۔ یہ تو علم نجوم کے بارے میں تمہید تھی، اب آپ کے سوال کا جواب دیا جاتا ہے، آپ نے پہلی بات یہ پوچھی ہے کہ علم نجوم قرآن سے ثابت ہے تو اوپر کی تفصیل سے معلوم ہو گیا ہو گا کہ علم نجوم حسابی قرآن کریم سے ثات ہے، جہاں تک نجومیوں کے مروّجہ زائچوں وغیرہ کا سلسلہ ہے، اس کو اس آیت سے ثابت کرنا دھوکہ اور فریب ہے، یہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے اس علم کا علم غیب سے تعلق ہو، یا نہ ہو ،یہ عوام کے عقیدے کے لیے انتہائی مضر ہے، جاہل عوام آہستہ ان ہی ستاروں کو مؤثر بالذات ماننے لگ جاتے ہیں، جو صراحتاً کفر وشرک ہے۔ جہاں تک نجومیوں سے پوچھ کر کاروبار وغیرہ کا تعلق ہے کہ فلاں ہفتہ کیسا رہے گا، اس کا جواب یہ ہے کہ قطع نظر اس کے یہ اندازے اکثر اٹکل بچوں ہوتے ہیں شریعت میں اس سے سختی سے منع فرمایا گیا ہے اور اس پر شدید وعیدیں آئیں ہیں ،حدیث شریف میں آتا ہے۔
''عن حفصۃ۔ رضی اﷲ عنہا۔ قالت: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ماأ تی عرّافا فسالہ عن شیء لم یقبل لہ صلوۃ اربعین لیلا (مشکوٰۃ المصابیح٣٩٣/٢، کتاب الطب والرقی باب الکھانۃ، قدیمی)

۱۔ جو شخص کسی نجوم کے پاس گیا ہو اس سے کوئی بات دریافت کی ہو تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔

۲۔  جو شخص کسی عراف یا کاہن کے پاس گیا ہو اور اس کی کہی ہوئی بات کو سچ جانا،تو اس شخص سے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم پر نازل کی ہوئی وحی کا انکار کیا۔

۳۔  جو شخص کسی کاہن کے پاس گیا او راس کی بتائی ہوئی بات کی تصدیق کی تو وہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم پر نازل کی ہوئی وحی سے بری ہے۔

۴۔ جو شخص کسی کاہن کے پاس گیا او راس سے کسی شئے کے متعلق پوچھا تو چالیس دن تک اس پر توبہ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اورکہان کی کہی ہوئی بات کو سچ مانا تو اس نے کفر کیا۔

۵۔  جس شخص نے علوم نجوم میں سے کچھ حاصل کیا اس نے جادو کا ایک شعبہ حاصل کیا۔
مذکورہ بالا وعیدیں نجوم کے ذریعے قسمت کا حال بتانے او رپوچھنے والوں کے بارے میں آئی ہیں، لہٰذا اس کا تقاضا یہ ہے کہ نجومیوں کے ساتھ اٹھنا، بیٹھنا، کھانا، پینا، لین دین او ران سے دوستی کرنا ان سب چیزوں کو فوراً ترک کرنا چاہیے ،اور جو شخص علم نجوم پر اعتقاد رکھتا ہو، اس کا ایمان خطرے میں ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی