بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عشر ادا کرتے وقت کون سے اخراجات منہا کیے جائیں گے

عشر ادا کرتے وقت کون سے اخراجات منہا کیے جائیں گے

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ جس علاقے میں ہمارا مدرسہ ہے ، وہاں گنے کی فصل بکثرت ہوتی ہے، گنے کی فصل زمین میں تقریباً ایک سال تک رہتی ہے، جس پر دوران سال مختلف قسم کے خرچے ہوتے ہیں ، مثلاً : کھاد ، سپرے ، پانی  اور حفاظت   وغیرہ ۔

اسی طرح فصل تیار ہونے کے بعد بھی مختلف قسم کے خرچے ہوتے ہیں ، جس طرح چار طرح کی لیبریں (مزدوروں کی ایک جماعت ) کام کرتی ہے۔

(۱) کٹائی والی لیبر : اس لیبر کا کام یہ ہوتا ہے کہ گنے کو زمین سے کاٹ کر اس سے زائد پتے وغیرہ صاف کرکے اس کو باندھنا ، اس لیبر کی اجرت تقریباً  22 روپے من ہوتی ہے۔

(۲) گدھا گاڑی والی لیبر : اس لیبر کا کام یہ ہوتا ہے، کٹے ہوئے گنے کو گدھا گاڑی پر لاد کر زمین سے مین روڈ تک لانا ، اس لیبر کی اجرت فی من تقریباً  7 روپے ہوتے ہے۔

(۳) لوڈنگ والی لیبر : اس لیبر کا کام یہ ہوتا ہے، گنے کو ٹریکٹر ٹرالی پر لادنا، اس لیبر کی اجرت تقریباً فی من  6 روپے ہوتی ہے۔

(۴) ٹریکٹر ٹرالی  : اس کا  کام گنے کو شوگر مل تک پہنچانا ہوتا ہے، اس کی اجرت تقریباً  فی من  ۱۳ روپے ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ ایک ٹریکٹر ٹرالی پر کم از کم  600 من گنا لوڈ کر کے ملز تک پہنچایا جاتا ہے، اور ملز پر موجود ریٹ  225 روپے فی من ہے۔

  مذکورہ بالا تفصیل کے بعد عرض  یہ ہے کہ گنے کی فصل کا عشر ادا کرتے  وقت مذکورہ خرچوں میں کون سے منہا کیے جائیں گے اور کون سے نہیں ؟

اس تفصیل کی وجہ یہ  ہے کہ مختلف فتاوٰی جات ہیں :

⃰⃰ولا تحسب أجرة العمال ونفقة البقر وكري الأنهار وأجرة الحافظ وغير ذلك فيجب إخراج الواجب من جميع ما أخرجته الأرض عشرا أو نصفا كذا في البحر الرائق⃰ (الفتاوي الهندية:ج 1 ص:249)

وغیرہ عبارات سے استدلال کرتے ہوئے یہ حکم بیان کیا گیا ہے کہ  لیبر  نمبر  ۲ (گدھا گاڑی والی لیبر )اور لیبر نمبر ۴ (ٹریکٹر ٹرالی ) والی اجرت کو منہا کیا جاسکتا ہے، جبکہ لیبر نمبر ۱ (کٹائی والی لیبر) اور لیبر نمبر ۳ (لوڈنگ والی لیبر) کا حکم واضح نہیں کیا گیا کہ یہ خرچہ منہا کیے جاسکتے ہیں ، یا نہیں ؟جبکہ مذکورہ عبارت سے معلوم ہوتا ہے، کہ اجرت عمال منہا نہیں کی جائے گی، اور لیبر نمبر ۱ (کٹائی والی )اور نمبر ۳ (لوڈنگ والی )بھی بظاہر اجرت عمال ہیں ، تو یہ دو اجرتیں منہا کی جائیں گی، یا نہیں ؟ اگر کی جاسکتی ہیں، تو کس اصول کی  بنیاد پر ؟ گدھا گاڑی اور ٹریکٹر ٹرالی کی اجرت کس اصول کی بنیاد پر منہا کی جاتی ہے، تاکہ متعین اصول کو مدنظر رکھا جاسکے ۔

ازراہ کرم شریعت کی روشنی تسلی بخش تحقیقی باحوالہ جواب عنایت فرمائیں ۔

جواب 

صورتِ مسئولہ میں زمین کی کل پیداوار سے عشر ادا کرنا واجب ہے، عشر نکالنے سے پہلے کسی قسم  کے اخراجات منہا نہیں کیے جائیں گے۔

لما في بدائع الصنائع:

"ولا يحتسب لصاحب الارض ما أنفق على الغلة من سقى أو عمارة أو أجر الحافظ أو أجر العمال أو نفقة البقر لقوله صلى الله عليه وسلم ما سقته السماء ففيه العشر وما سقى بغرب أو دالية أو سانية ففيه نصف العشر أوجب العشر ونصف العشرمطلقا عن احتساب هذه المؤن ولان النبي صلى الله عليه وسلم أوجبالحق على التفاوت لتفاوت المؤن ولو رفعت المؤن لارتفع التفاوت."(كتاب الزكاة، فصل في مقدار الواجب، 2/512،ط:رشيدية). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/146