بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عدت وفات سے متعلق چند ضروری احکام

عدت وفات سے متعلق چند ضروری احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان دین متین مندرجہ ذیل مسائل میں؟

1.  وہ عورت جس کا خاوند انتقال کر جائے اور وہ بوڑھی ہے وہ کس طرح کا لباس زیب تن کر سکتی ہے ؟ کیا وہ قیمتی کپڑے پہن سکتی ہے ، یا صرف سفید کپڑے ہی پہنے گی کیا وہ زیور پہن سکتی ہے، کیا وہ سرمہ اور بالوں میں تیل لگا سکتی ہے، کیا وہ مہندی لگا سکتی ہے؟

2.  مندرجہ بالا سوالات کا حکم اور وہ عورت جس کا خاوند انتقال کر جائے اور وہ نوجوان ہو کیا ہے؟

3.  معتدة الوفاةنے جو زیورات خاوند کے انتقال سے پہلے پہنے ہوئے تھے اور وہ اس کا معمول تھا، کیا خاوند کے انتقال کے بعد اُن کو اتار دے گی؟

4.  معتدة الوفاة پہلے تو پردہ نہ کرتی تھی کیا خاوند کے انتقال کے بعد اس پر ہر ایک سے پردہ لازم اور ضروری ہو جاتا ہے اس حدتک کہ نہ کرنے پر طعن وتشنیع کی مستحق قرار پائے۔

5.  کیا معتدة الوفات عدت میں اپنے بھائی کو چھوڑنے جو کہ غیر ملک جارہا ہو غیر معینہ مدت کے لیے ائیرپورٹ جاسکتی ہے ؟

6.  اگر وہ جانے پر مصر ہو اور دل پر قابو نہ ہو تو اس صورت میں چھوڑنے جاسکتی ہے؟

جواب 

2،1 صورت مسئولہ میں عورت بوڑھی ہو یا نوجوان، عدت کے اند راس پر سوگ لازم ہے، جس میں اس کے لیے ایسا لباس زیب تن کرنا جائز نہیں، جو باعث زینت ہو ، لہٰذا اگر قیمتی کپڑے ایسے ہوں کہ اس کا استعمال زیب وزینت کا باعث ہے تو ایسے کپڑوں کو اس کے لیے پہننا جائز نہیں او راگر اس میں زیب وزینت نہ ہو تو جائز ہے ۔ اسی طرح اس کے لیے زیورات پہننا، سرمہ لگانا، تیل لگانا، او ر مہندی لگانا یہ سب امور ناجائز ہیں ، البتہ اگر سر میں درد ہو یا آنکھ میں تکلیف ہو تو بطور علاج تیل اور سرمہ استعمال کر سکتی ہے ، نہ کہ بطور زینت۔

3.  زیورات پہنے رکھنا زیب وزینت ہے ، لہٰذا جو زیورات شوہر کے انتقال سے پہلے پہنے ہوئے تھی، عدت میں اس کا اتارنا بھی لازم ہے۔

4.  نامحرم سے پردہ لازم اور ضروری ہے ،چاہے عدت کے اندرہو، یا عدت سے پہلیہویا بعد میں ہو ، بہرحال پردہ کرنا ضروری ہے، البتہ جس نامحرم سے عدت سے پہلے پردہ نہیں کرتی تھی، تب بھی عدت کے اند ران سے پردہ کرنا لازم ہے اور نہ کرنے پر گناہ گار ہو گی۔

6،5 معتدة الوفات کے لیے بغیر ضرورت شدیدہ کے گھر سے نکلنا جائز نہیں، بھائی کو چھوڑنے کے لیے ائرپورٹ جانا ایسی ضرورت نہیں، جس کی وجہ سے اس کو گھر سے نکلنے کی اجازت دی جائے، لہٰذا اس کو نرمی سے مسئلہ سمجھا کر گھر سے نہ نکلنے پر آمادہ کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی