بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طلاق کا تلفظ کیے بغیر تین پتھر یا رقم پھینکنے سے طلاق کا حکم

طلاق کا تلفظ کیے بغیر تین پتھر یا رقم پھینکنے سے طلاق کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ  زید نے اپنے ماموں کی لڑکی سے نکاح کیا ،اس سے ان کی دو بیٹیاں بھی ہیں،ایک دن زید کو ان کے والد نے زبردستی (۵۰۰) پانچ سو روپے اور تین کنکریاں تھمادیں ، اور زید نے والد کے ڈر اور خوف سے وہ کنکریاں اٹھا کر اپنے سسر کے گھر میں پھینک دیں ،جبکہ زید کے سسر کا گھر کا فاصلہ زید کے گھر سے (۳۰۰) قدم ہے،اس دوران زید نے مذکورہ رقم اور کنکریاں والد سے لےکر اپنے سسر کے گھر خود جاکر پھینک دی ،اس کے بعد اس کے سسر نے یہ کہا  کہ یہ کیا ہےاور مجھے کیوں دے رہے ہواور تمہاری اور تمہاری بیوی بھی تو میرے پا س نہیں ہے،وہ وٹوری میں ہے،زید کا کہنا ہے کہ یہ کنکریاں اور پیسے میں نے والد کے خوف اور مار سے بچنے کے لیے پکڑے تھے ،کیونکہ اس دوران ان کےوالد نے ڈنڈا ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا ،اورزید  کا مزید یہ بھی کہنا ہے کہ اس دوران میری طلاق کی کوئی نیت نہیں تھی ،اور اس واقعہ کو سات (۷)سال کا عرصہ گزرچکا ہے،واضح رہے کہ پتھر پھینکتے وقت طلاق کا کوئی تلفّظ نہیں کیا۔ شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔شکریہ

جواب

صورت مسئولہ اگر حقیقت پر مبنی ہےاور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہیں لیا گیا،تو زید کا سسرال کے گھر میں جاکر طلاق پر تلفّظ کیے بغیر صرف تین پتھر اور رقم پھینکنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ہے،لہذا ان دونوں کا نکاح بدستور باقی ہے۔

لما في الشامية:

(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، وكذا ما يفعله بعض سكان البوادي.(كتاب الطلاق،مطلب طلاق الدور،4/420، رشيدية)

وفي الهندية:

ولو قالت لزوجها طلقني فأشار بثلاث أصابع وأراد بذلك ثلاث تطليقات لا يقع ما لم يقل بلسانه هكذا.(كتاب الطلاق،في الطلاق الصريح،1424،دارالفكر).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 175/55