بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طلاق رجعی کے بعد رجوع کرنے کاطریقہ

طلاق رجعی کے بعد رجوع کرنے کاطریقہ

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آپ سے ایک مسئلہ کے حل کے لیے شرعی نقطہ نظر سے مشورہ درکار ہے، برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلّل جواب سے نوازیں: میری بیوی نے پنچائت بلائی او رکہا ( یہ رشتہ ختم کر دیں ) پنچائت کے روبرو میرے سسر نے میرے سامنے دو راستے رکھے: پنچائتمیں (طلاق مبارات) دے دو ورنہ عدالت سے لیں گے، فیصلہ انہوں نے کر لیا تھا مجھے یہ فیصلہ کرنے کے لیے ایک ماہ سوچنے کا موقعہ ملا کہ فیصلہ گھر میں کرنا ہے یا عدالت میں، پنچائت کے ہاتھوں مجبور ہو کر میرے سسر کے کہنے پر ایک تحریر ہوئی، پنچائت گواہ ہے ، مضمون کے الفاظ میرے(سسر) کے منہ کے تھے، جب کہ قلم میرے ہاتھ میں دیا گیا، تحریر کے الفاظ کچھ اس طرح کے تھے:

میں مسمی (راشد اقبا ل ولد ملک آمان) نے اپنی بیوی مسماة (پروین اختر دختر گلزمان)، کو باہوش وحواس باہمی رضا مندی سے (پہلی طلاق دی، دوسری طلاق دی)پنچائتکے گواہوں کے دستخط موجود ہیں، 16-12-2012 کو تحریر ہوئی۔

نو دن بعد میرا اپنی بیوی کے موبائل فون پر رابطہ ہوا، وہ زبانی الفاظ یہ تھے: آج مورخہ25-12-2012 کو میں الله تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ 16-12-2012 کو جو تمہیں تحریری طلاق دی ہے میں اُس پر تم سے رجوع کرتا ہوں، میری بیوی کا جواب یہ تھا :کہ نماز پڑھ کر الله سے دعا کریں، اُس سے دور کچھ بھی نہیں۔

دوسری بار پھر (دوران عدت) موبائل فون پر رابطہ ہوا جس کی ریکارڈنگ موبائل میں محفوظ ہے” میں تم سے جوع کرتا ہوں، آج میں تم کو رکھتا ہوں“ جواب یہ تھا…… اچھا بس میرا نمبر ڈیلیٹ کردیں۔

گزشتہ حالات کی روشنی میں درج ذیلسوالات کے مدلّل جواب تفصیل سے دے کر مشکور فرمائیں:
1..رجوع بالقول میرا یہ زبانی رجوع کافی ہے یا گواہوں کا ہونا ضروری ہے؟
2..میری بیوی رجوع بالقول کے حوالے سے میرے عقد نکاح میں موجود ہے کہ نہیں؟

میرے سسر خود کو دین دار کہتے ہیں، مندرجہ ذیل سوالات کا جواب وہ درست فرمارہے ہیں:

نوٹ: میرے تحریر کردہ الفاظ (الفاظ کنایہ) نہیں تھے، مجھ سے صریح اور صاف الفاظ (دو الفاظ) ایک محفل میں تحریر کیے گئے ہیں۔

3..اگر اعتبار الفاظ کا ہے تو کیا میں رجوع کا حق رکھتا ہوں؟
4..رجوع کس طرح کیا جاسکتا ہے؟ کیا رجوع میں میاں کہے کہ میرا رجوع ہے ؟ بیوی یا اُس کے والد صاحب اور پنچائت اس رجوع کو قبول کریں تو رجوع درست ہو گا؟
5..میری بیوی کا اور میرا دورانِ عدت رجوع بالقول اس کے والد صاحب کے علم میں نہیں، موبائل کی ریکارڈنگ کو رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں یہ طلاق بائن ہے اور طلاق بائن میں رجوع نہیں ہوتا، طلاق بائن میں دورانِ عدت نکاح جدید ہوتا ہے او ربعد عدت طلاق مغلظہ خود بخود واقع ہو جاتی ہے، کیا ان کے الفاظ درست ہیں؟
6..کیا میں اپنی بیوی کی پنچائت والوں کو سچی گواہی کے لیے تین پتھر ہاتھ میں دے سکتا ہوں؟
7..تیسرا لفظ میں نے ابھی تک استعمال نہیں کیا، کیا میری بیوی دوسرا نکاح کر سکتی ہے؟

جواب

(1-5) طلاق کی تین قسمیں ہیں : رجعی، بائن اور مغلظہ

رجعی یہ ہے کہ صریح الفاظ میں ایک یا دو بار طلاق دی جائے، اس کا حکم یہ ہے کہ عدت ختم ہونے تک نکاح باقی رہتا ہے، اس مدت میں اگر شوہر چاہے تو رجوع کر لے، عدت کے اندر رجوع کرنے سے دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں پڑے گی، البتہ عدت کے بعد نکاح ختم ہو جائے گا، لیکن اگر دونوں نکاح کرنا چاہیں تو دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں ، مگر اس صورت میں صرف اتنی طلاقوں کا حق رہے گا جو باقی بچی ہیں ۔ رجوع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ یا تو زبان سے کہہ دے میں نے رجوع کیا، یا یہ کہ میں نے طلاق واپس لے لی (گواہوں کا موجود ہونا مستحب ہے، لیکن ان کی غیر موجودگی میں بھی رجعت درست ہو جائے گی)، یا پھر بیوی کے ساتھ ہم بستری کرکے عملی رجوع کرے۔

طلاق بائن یہ ہے کہ کنایہ الفاظ کے ساتھ طلاق دی جائے، یعنی وہ الفاظ جو صریح نہ ہوں ، یا بائن جیسی صفت کے ساتھ طلاق دی ہو ، طلاق بائن میں طلاق دیتے ہی بیوی نکاح سے نکل جاتی ہے، نکاح ختم ہو جاتا ہے ،البتہ عدت کے اند اور عدت کے بعد دوبارہ تجدید نکاح ہو سکتا ہے۔

طلاق مغلظہ یہ ہے کہ تین طلاق دی جائے، یا طلاق بائن دیتے وقت تین کی نیت کی جائے، ایسی صورت میں نکاح مکمل ختم ہوجاتا ہے اورجوع کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی اور اب صرف حلالہ شرعیہ کے بعدہی دوبارہ نکاح کیا جاسکتا ہے۔

صورت مسئولہ اگر حقیقت پر مبنی ہے اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہیں لیا گیا، تو جان لیں کہ آپ کے زبانی رجوع کرنے سے رجعت ثابت ہو چکی ہے، آپ کی بیوی آپ کے نکاح میں موجود ہے، البتہ مستقبل میں آپ کو صرف ایک طلاق کا حق باقی ہے۔

6..اس کی ضرورت نہیں۔

7..جب آپ کی بیوی آپ کے نکاح میں ہے، تو وہ کسی اور سے نکاح نہیں کرسکتی۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی