بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ضرورت کی بناء پر احرام کھولنے کی وجہ سے دم کا حکم

 ضرورت کی بناء پر احرام کھولنے کی وجہ سے دم کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ زید سعودی عرب میں ملازم ہے،ان کی فلائیٹ یہاں سے جدہ کی تھی، تو زید کا ارادہ یہ تھا کہ یہاں سے احرام باندھ کر جاؤں گا ،پہلے عمرہ کروں گا،اس کے بعد پھر اپنی کمپنی چلا جاؤں گا،لیکن یہاں زید کو انتظامیہ کی جانب سے حجاج کرام کے ہجوم کی وجہ سے  اجازت نہیں ملی ،تو زید بغیر عمرہ کے واپس  گیا اور بغیر عمرہ کے احرام کھول دیا ،تو ایسی صورت میں زید پر عمرے کی قضاء اور دم لازم ہے، یانہیں ؟براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر زید پاکستان سے احرام باندھتے وقت عمرہ کی نیت کر کے تلبیہ پڑھ چکا تھا ،پھر کمپنی کی انتظامیہ کی جانب سے عمرہ کی اجازت نہیں دی گئی ،اور اس نے احرام کھول دیا، تو اب اسےچاہیے کہ حدود حرم میں اپنی طرف سے بکری یا  دُنبہ ذبح کروائے (یعنی دم دے )،اور آئندہ اس عمرے کی قضاء بھی کرے ،اور اگر زید نے پاکستان سے احرام باندھتے وقت عمرے کی نیت نہیں  کی اور نہ ہی تلبیہ پڑھاتو اس سے زید نہ احرام میں داخل ہوگا، اور نہ ہی اس پر دم اور قضاء لازم ہوگی۔

لما في إرشاد الساري:

إذاأحصرالمحرم بحجة أو عمرة وأراد التحليل يجب عليه أن يبعث الهدي وهو شاة .(باب الاحصار،ص:458،دارالكتب)

وفيه أيضا:

إذاحل المحصر بالذبح ،فإن كان إحرامه للحج فعليه قضاء عمرة وحجة ،وإن كان قارنا فعليه قضاء حجة وعمرتين..(باب الاحصار،ص:468،دارالكتب).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/232