بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحت کارڈ کے ذریعے علاج کی سہولت حاصل کرنے کا حکم

صحت کارڈ کے ذریعے علاج کی سہولت حاصل کرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ حکومت پاکستا ن کی جانب سے ہر خاندان کو مفت علاج کے لیے صحت کارڈ کی سہولت دی جارہی ہے،جس میں خاندان کے سارے افراد 7 لاکھ 20 ہزار تک علاج کی سہولت لے سکتے ہیں،یہ پیسے اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کی طرف سے دئیے  جائیں گے، اب میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ یہ پیسے  ایک انشورنس کمپنی کی جانب سے دئیے جارہے ہیں ،جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ انشورنس کمپنی کا کاروبار سود پر مبنی ہوتا ہے،کیا ہم صحت کارڈ سے ملنے والی علاج کی سہولت لے سکتے ہیں،یا نہیں؟ یعنی وہ ہمارے لیے جائز ہے یا نہیں؟

تنقیح: حکومت کا انشورنس کمپنی سے معاہدہ ہوا ہے، اور حکومت انشورنس کمپنی والوں کو پیسے دیتی ہے،بعد میں جن کو علاج و معالجہ کی ضرورت ہوتی ہے،انشورنس کمپنی کے ذریعہ ان کا علاج و معالجہ کیا جاتا ہے۔

جواب

واضح رہےکہ صورت مسئولہ میں ذکرکردہ نوعیت کےمطابق صحت کاڑدوصول کرنےوالےکوجس عوض کی بناءپرعلاج کروانےکی سہولت دی جاتی ہے،وہ رقم دوطرح کی ہوتی ہے:

۱۔وہ رقم جوباہمی معاہدہ کےتحت حکومت انشورنس کمپنی کودیتی ہے۔

۲۔وہ رقم جوانشورنس کمپنی اپنی جانب سےصحت کارڈوصول کرنےوالےپرخرچ کرتی ہے۔

پہلی  قسم کی رقم توحلال ہے،جب کہ دوسری قسم کی  رقم جوئے اورسود کی بناءپرناجائزہے،لہذاصورت مسئولہ میں اگر صحت کارڈوصول کرنےوالاصاحب نصاب یاسیّدہے،تواس کیلئےپہلی قسم کی رقم کی مقدارکےبرابرصحت کارڈکی مددسےعلاج کروانےکی اجازت ہے،اس سےزائدرقم سےعلاج کروانےکی اجازت نہیں ہے،اگرصحت کارڈوصول کرنےوالاصاحب نصاب نہیں اورنہ ہی سیّدہے،تواس کےلئےدونوں قسم کی رقم سےعلاج کروانےکی اجازت ہے۔

لمافي التنزيل:

﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾(المائدة:90)

وفيه أيضا:

﴿إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾(البقرة:275)

لمافي الاختيار:

والملك الخبيث سبيله التصدق به، ولو صرفه في حاجة نفسه جاز. ثم إن كان غنيا تصدق بمثله، وإن كان فقيرا لا يتصدق.(كتاب الغصب،3/70ط:دارالكتب العلمية)

وفي الهندىة:

له مال فيه شبهة إذا تصدق به على أبيه يكفيه ذلك، ولا يشترط التصدق على الأجنبي وكذا إذا كان ابنه معه حين كان يبيع ويشتري وفيها بيوع فاسدة فوهب جميع ماله لابنه هذا خرج من العهدة.(كتاب الكراهية،الباب الخامس عشر:في الكسب،5/404ط:دارالفكر)

وفي فقه البيوع مع حاشيته:

فقيل له لو أن فقيرا يأخذ جائزة السلطان مع علمه أن السلطان يأخذها غصبا أيحل له قال إن خلط ذلك بدراهم أخرى فإنه لا بأس به وإن دفع عين المغصوب من غير خلط لم يجز وعدم جوازعين المغصوب للفقيرمحمول على مااذاامكن رده الى مالكه.(الباب العاشر:في احكام المال الحرام،2/991ط:مكتبةمعارف القران).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 175/96