بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

شوہر کا اپنی بیوی پر شریعت محمدی کے موافق شرائط عائد کرنے کا حکم

شوہر کا اپنی بیوی پر شریعت محمدی کے موافق شرائط عائد کرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میرے ایک انتہائی عزیز دوست کی بیٹی جو کہ عالمہ فاضلہ بھی ہے، کی شادی فوج کے ایک میجر صاحب سے تقریباً چار سال پہلے ہوئی ان کی ایک بیٹی (تین سال) اور ایک بیٹا چند ماہ کا ہے، شادی کے بعد سے اب تک وقتاً فوقتا ً  میاں بیوی  کے درمیان  بیوی کے مختلف امور پر لا پروائی  ، فضول خرچی اور بے پردگی کی وجہ سے جھگڑا رہتا ہے  ، شوہر کی طرف سے ان امور کے بارے میں کچھ ترغیب و تنبیہ جاری رہتی تھی ، لیکن اب شوہر نے اپنے اور بیوی کے خاندان کے چند سمجھدار افراد کے ساتھ بیٹھ کر کچھ شرائط مقررکرنے کا  کہا  ہے جن کی پابندی وہ لڑکی پر لازمی کرنا چاہتا ہے۔

وہ شرائط مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔ لڑکی اپنا کوئی ذاتی موبائل فون استعمال نہیں کرے گی ۔

۲۔ سرکاری نوکر صرف باہر کے کام کرے گا ، اندر صرف میری موجودگی میں آئے گا ۔

۳۔ لڑکی کو میرے بارے میں کوئی شکایت ہو اور میرے ساتھ اس کا ذکر کرنے کے باوجود اگر حل نہ نکلے تو دوسرے رشتے داروں کو بتانے کے بجائے میرے والدین سے رجوع کرے  گی۔

۴۔ گھر سے باہر جانا اگر اشد ضروری ہو تو مکمل شرعی پردے کے ساتھ جائے گی۔

۵۔ اپنے اور میرے نامحرم رشتہ داروں سے شرعی پردہ کرے گی ۔

۶۔ فضول خرچی اور لاپروائی کے معاملے میں  ، میں اگر اسے اللہ تعالیٰ اور نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعلیمات کے دائرے میں کوئی بات کہوں تو نافرمانی نہیں کرے گی۔

۷۔ میں اس کے جملہ شرعی حقوق ادا کرتے ہوئے اگر دوسری شادی کروں تو اس کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

میرے عزیز دوست جو کہ لڑکی کے والد ہیں ، کی خواہش ہے کہ اس معاملے میں حضرات علماء کرام کی راہنمائی لینی چاہیے۔

حضرت مفتی صاحب آپ سے گزارش ہے کہ اس مسئلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں ۔

اور یہ بھی بتادیں کہ کیا یہ شرائط جو میجر صاحب نے مقرر کی ہیں ، شریعت محمدی کے مطابق ہیں ،یا نہیں ؟

کیا شوہر کو  ایسی شرائط   بیوی پر لازم کرنے کا اختیار ہے  ؟

جواب 

واضح رہے کہ میاں بیوی کارشتہ  انتہائی اہمیت کاحامل رشتہ ہے،بلکہ دراصل پورا خاندانی  نظام ازدواجی رشتہ سےمتعلق ہے،اسی سےخاندان کی تشکیل ہوتی ہے اور خاندان کادائرہ وسیع ہوتاہے، زوجین کےسلسلے میں شریعت کاعمومی  نقطہ نظریہ ہے کہ ان کےدرمیان مالک اور مملوک اورآقاوباندی کی نسبت نہیں،بلکہ وہ ایک معاملہ کےدو فریق اور زندگی کےدوشریک ورفیق ہیں،البتہ قدرتی طورپران کی صلاحیت کار ایک دوسرےسےمختلف ہے،بعض مردوں میں ہیں جوعورتوں میں نہیں اور بعض عورتوں میں ہیں جن سےمرد محروم ہیں،اسی صلاحیت کےلحاظ سےاسلام نےدونوں کےدائرہ کار کوتقسیم کیاہے کہ بیرون خانہ  کی سرگرمیوں  کومرد انجام دیں اوراندروں خانہ کی سرگرمیاں بیوی سے متعلق ہوں،نیزشوہر کی حیثیت خاندان  کےسربراہ اورمحافظ ومنتظم کی ہے،اسی کوقرآن مجیدنےقوامکےلفظ سےتعبیر کیاہے،اس میں مرد کےلیے بھی عافیت ہے اورعورت کےلیے بھی اور اس میں خاندانی  نظام کی بقاءہے۔

          مذکورہ   بالاتمہیدکی روشنی میں  یہ بات ثابت  ہوتی ہے کہ جس طرح  شوہرپر بیوی  کےحقوق  کا خیال رکھنا شرعاً لازم اورضروری ہے، اسی طرح بیوی پرشوہر کےحقوق کاخیال رکھنا شرعاً لازم اورضروری ہےاور شوہرکےحقوق میں سےایک حق یہ ہےکہ بیوی پرشوہر کی اطاعت ،فرمانبرداری اوراس کاحکم ماننا واجب ہے،لہذاسوال میں  ذکر کردہ  شرائط (جیسے:بیوی کا نامحرم سے پردہ کرنا ، ذاتی موبائل استعمال   نہیں کرنا ،بغیرشرعی ضرورت کےشوہرکی اجازت کےبغیرگھرسےباہرنہ جانا،شوہرکےدوسری شادی  کرنےپراعتراض نہ کرنااور فضول خرچی  نہ کرنا وغیرہ  ) کاماننا بیوی  پرلازم اور اس پرعمل کرنا واجب ہے،البتہ اگربیوی ہفتہ میں ایک باریاحسب ضرورت والدین کی ملاقات اورسال میں ایک باریابوقت ضرورت  دوسرےمحرم رشتہ داروں کی ملاقات کےلیےجاناچاہے،توشوہراس کومنع نہیں کرسکتاہے،بلکہ یہ اس کاشرعی حق ہے،جس کی شریعت نےاجازت دی ہے۔

لمافي"فيض القدير":

")أيما امرأة) ذات زوج (ماتت وزوجها عنها راض دخلت الجنة) أي:مع الفائزين السابقين".(حرف الألف،3/632،631رقم الأحاديث:2945،ط:دارالحديث القاهرة)

وفي "البحرالرائق":

"قالوا: الصحيح أنه لا يمنعها من الخروج إلى الوالدين ولا يمنعهما من الدخول عليها في كل جمعة، وفي غيرهما من المحارم في كل سنة، وإنما يمنعهم من الكينونة عندها،وعليه الفتوى كما في الخانية......وفي الخلاصة معزيا إلى مجموع النوازل:يجوز للرجل أن يأذن لها بالخروج إلى سبعة مواضع زيارة الأبوين وعيادتهما وتعزيتهما أو أحدهما وزيارة المحارم،فإن كانت قابلة أو غسالة أو كان لها على آخر حق تخرج بالإذن وبغير الإذن والحج على هذا،وفيما عدا ذلك من زيارة الأجانب وعيادتهم والوليمة لا يأذن لها ولا تخرج،ولو أذن وخرجت كانا عاصيين".(كتاب الطلاق،باب النفقة،4/331،330، رشيدية)

وفي "الدرالمختار":

"ولا يمنعها من الخروج إلى الوالدين ) في كل جمعة إن لم يقدرا على إتيانها على ما اختاره في الاختيار ولو أبوهازمنا مثلا فاحتاجها فعليها تعاهده ولو كافرا وإن أبى الزوج.فتح.( ولا يمنعها من الدخول عليها في كل جمعة،وفي غيرهما من المحارم في كل سنة ) لها الخروج ولهم الدخول".زيلعي....ويمنعهـــا من زيـارة الأجـــانب وعيادتهم والوليمة وإن أذن كانا عاصيين".(كتاب الطلاق،باب النفقة،مطلب:في الكلام على المؤنسة،5/330،328،ط: رشيدية)

 وفي البحرالرائق":

"وفي باب النفقات ما يجوز لها من الخروج وما لا يجوز:قالوا:ولو كان أبوها زمنا وليس له من يقوم عليه مؤمنا كان أو كافرا فإن عليها أن تعصي الزوج في المنع.وفي البزازية من الحظر والإباحة:وحق الزوج على الزوجة أن تطيعه في كل مباح يأمرها به"(كتاب النكاح،باب القسم،3/385،ط: رشيدية). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/193