بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سوتیلی ساس سے نکاح کا حکم

سوتیلی ساس سے نکاح کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کی دو بیویاں ہیں بڑی   بیوی کی دو  بیٹیاں ہیں ، ایک بیٹی کی شادی ایک شخص سےہوئی ہے، اب یہ شخص طلاق کے بعد اپنے سسر کی دوسری بیوی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، (جس سے اس کی بیوی کا نہ کوئی نسبی رشتہ ہے نہ رضاعی )تو اس شخص کے لیے اپنی سوتیلی ساس سے نکاح کرنا، بیوی کی طلاق کے بعد جائز ہے ، یا نہیں ؟رہنمائی فرمائیں ۔

جواب 

صورت مسئولہ  میں اگر اس کے سسر نے اپنی دوسری بیوی کو طلاق دی ہے ، اور وہ اپنی عدت پوری کر چکی ہے،تو مذکورہ شخص اس سوتیلی ساس سے نکاح کرسکتا ہے، چاہے اس کی  اپنی بیوی نکاح میں  ہو،یا نہ ہو ۔

وفي البدائع :

أما الآية فيحتمل أن يكون معنى قوله تعالى: {وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ} أي: ما وراء ما حرمه الله تعالى.... ويجوز الجمع بين امرأة وبنت زوج كان لها من قبل, أو بين امرأة وزوجة كانت لأبيها وهما واحد؛ لأنه لا رحم بينهما فلم يوجد الجمع بين ذواتي رحم.(كتاب النكاح،3/437،ط:رشيدية).  فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/327