بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ستاروں کے ذریعے مستقبل کے حالات جاننا

ستاروں کے ذریعے مستقبل کے حالات جاننا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل مختلف جرائد اور اخبارات میں” یہ ہفتہ کیسا رہے گا “ کے عنوان سے کالم چھتے ہیں ،جن میں مختلف برجوں کے مطابق ماضی، مستقبل اور حال کی خبریں دی جاتی ہیں، براہ کرم وضاحت فرمائیے کہ کیا برجوں کے ذریعے اس طرح کی خبریں  دینا شرعاً درست ہیں؟ اور کیا ان چیزوں پر یقین کرنا جائز ہے؟

جواب

ان چیزوں پر عقیدہ رکھنا درست نہیں، بلکہ اگر کوئی شخص ستاروں کو مؤثر حقیقی مانے تو احادیث میں اس کو مشرک کہا گیا ہے، نہ ان چیزوں کا علم یقینی ہوتا ہے؛ بلکہ ظن اور تخمین ہے، جس کی اتباع سے قرآن نے منع کیا ہے، نیزاگر بالفرض ستاروں سے حوادث کا علم ہو بھی جائے تو اس سے فائدہ بھی کچھ نہیں، کیوں کہ اﷲ کے ہاں جو کچھ مقرر ہوچکا ہے وہ ٹل نہیں سکتا ہے۔(شامی،ص٣٣/١)

''وأعلم أن تعلم العلم یکون فرض عین ۔۔۔ وحراما وھو علم الفلسفۃ والشعبذۃ والتنجیم.''

(قولہ والتنجیم) ھو علم یعرف بہ الاستدلال بالتشکلات الفلکیہ علی الحوادث السفلیۃ۔۔۔ وقال عمر تعلموا من النجوم ما تھتروابہ فی البر والبحر ثم أمسکوا وإنما زجر عنہ من ثلاثۃ أوجہ.'' أحدھا: أنہ مضر بأکثر الخلق ، فإنہ إدا القی إلیھم أن ھذہ الآثار تحدث عقیب منیر الکواکب وقع فی نفوسھم أنھا لمؤثرۃ. وثانیا: أنہ لا فائدۃ فیھ، فإن ماقدیر کائن والاحتراز منہ غیر ممکن. وثالثھا: أن أحکام النجوم تخمین محض، ولقدکان معجزۃ لإدریس علیہ السلام.'' ( الدر المختارمع ردالمحتار: مقدمۃ:٤٤/١، سعید).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی