سبیل کا شربت

Darul Ifta mix

سبیل کا شربت

سوال

ہر سال محرم کے مہینے میں ”سبیل حسین“ کے نام سے سبیل لگائی جاتی ہے،اس طرح سبیل لگانا اور اس سے پانی پینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب 

 لوگوں کو پانی پلانا کارخیراور ثواب کا کام ہے، لیکن محرم کے مہینے میں پہلی تاریخ سے لے کر دسویں محرم تک شربت تقسیم کرنا اور سبیل لگانا بہ چند وجوہ ناجائز ہے۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ سبیل لگانے اور شربت پلانے والوں کا خیال ہے کہ اس سے کربلا کے شہیدوں کی پیاس بجھ جاتی ہے، حال آنکہ یہ عقیدہ بالکل باطل اور فاسد ہے۔ اس لیے کہ شہدا جنت کی نعمتوں میں ہوتے ہیں، ان کو اس شربت وغیرہ کی کیا ضرورت؟
دوسری وجہ یہ ہے کہ سبیل لگانے اور شربت پلانے کا مقصد ایصال ثواب ہے اور ایصال ثواب کے لیے عشرہٴ محرم کی تخصیص اور باقی دنوں میں اس عمل کو ترک کرنا ترجیح بلا مرجح ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ سبیل لگانے میں روافض کے ساتھ تشبہ بھی ہے۔
لہٰذا سنی حضرات پر لازم ہے کہ سبیل لگانے اور روافض کی لگائی ہوئی سبیل کا پانی پینے سے اجتناب کریں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی