بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰة سے متعلق چند متفرق سوالات

زکوٰة سے متعلق چند متفرق سوالات

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام او رمفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ!
1…زکوٰة کن حضرات پر فرض ہے ؟کتنے مال پر زکوٰة دینا فرض ہے؟
2…اگر شعیب کی تنخواہ او ربیوی کا سونا ملا کر زکوٰة کا نصاب پہنچے تو کیا حکم ہے ؟
3…اور اگر مثلاً شعیب کی اپنی تنخواہ زکوٰة کے نصاب تک برابر ہے اور اس کے پاس گاڑی بھی موجود ہے تو اس صورت میں کیا حکم ہو گا؟
4…زکوٰة صرف ایک فرد پر فرض ہے یا مثلاً شعیب او راس کے گھر کے تمام افراد کی تنخواہیں ملا کر زکوٰة کے نصاب تک پہنچے تو کیا حکم ہے ؟
5…شعیب نے اپنا بینک میں اکاؤنٹ کھولا ہے او راس میں پیسے موجود ہوتے ہیں او رہر ماہ وہ خرچ بھی کرتا ہے او رجمع بھی تو اس صورت میں شعیب زکوٰة دے گا یا نہیں؟
6…شعیب اگر زکوٰة کا ادا کرنے والا ہو تو وہ زکوٰة سب سے پہلے کس کو دے گا یعنی کہ مستحق زکوٰة کون لوگ ہیں؟

جواب

1…  جو شخص عاقل بالغ مسلمان آزاد ہو او را س کے پاس اتنا مال ہو ، جو ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے اورحاجت اصلیہ سے زائد ہو ، قرض سے فارغ ہو اور اس پر سال بھی گذر چکا ہو ، تو ایسے شخص پر زکوٰة فرض ہے ۔
4،1 زکوٰ ةمیں ہر شخص کے ذاتی مال کو دیکھا جائے گا، اگر ہر ایک کے پاس اتنا سرمایہ ہے ، جو نصاب زکوة کو پہنچ جائے ، تو زکوٰة واجب ہو گی ورنہ نہیں ، میاں بیوی کے مال کو ملایا نہیں جائے گا۔
3…اگر تنخواہ کی رقم سے اخراجات منہا کرنے کے بعد بقیہ رقم نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو سال پورا ہونے کے بعد اس پر زکوٰة واجب ہو گی ۔نیز اگر گاڑی اپنی ضرورت کے لیے خریدی ہے، تو اس کو نصاب میں شمار نہیں کیا جائے گا۔
5…وجوب زکوٰة کے لیے مالک نصاب ہونا ضروری ہے لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر شعیب سال کے شروع اور آخر میں مالک نصاب ہو ، تو اس پر زکوٰة فرض ہو گی اور سال کے آخر میں جتنی بھی رقم کا مالک ہو گا، اسی حساب سے زکوٰة ادا کرے گا۔
6…جس مسلمان آدمی کے پاس اس کی ضرورت اصلیہ سے زائد سامان نصاب کے برابر سونا، چاندی، مال تجارت اورنقدی نہ ہو اس کو زکوٰة دینا جائز ہے تاہم غریب رشتہ دار اور دین دار لوگوں کو دینا افضل ہے۔

فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی