بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زندگی میں شراب کی قیمت ادا نہیں کی تو کیامیراث کے مال سےاس کی ادائیگی کرسکتےہیں؟

زندگی میں شراب کی قیمت ادا نہیں کی تو کیامیراث کے مال سےاس کی ادائیگی کرسکتےہیں؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ اگر مسلمان نے شراب خریدنے کے بعداس کی قیمت زندگی میں ادا نہیں کی،توکیاورثاء پرلازم ہےکہ میراث کے مال سے وہ قیمت اداکریں؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں شراب مسلمان کےحق میں مال متقوم نہیں ہے، اوراس کی خریدوفروخت بھی شرعا جائز نہیں ہے،نیز ورثاء پر بھی لازم نہیں کہ وہ مال میراث میں سے شراب کی قیمت ادا کریں۔

لمافي "المبسوط":

"وإذا قال: لفلان علي ألف درهم من ثمن خمر،لم يصدق عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى وإن وصل ،لأن ثمن الخمر لا يجب للمسلم شرعا"(كتاب الإقرار،باب الإقرار بشيء بغير عينه:18/114،ط: دار الفكر )

"وفي البحرالرائق":

"ولم ينعقد بيع الخمر والخنزير في حق المسلم ....وان تبايعا ثم أسلم أحدهما قبل القبض ،  انفسخ البيع .ولو تقارضا  ثم أسلم المقرض، فلا شيء له من الخمر وإن أسلم المستقرض ،كان عليه القيمة في رواية. وفي أخرى كالأول  .... وفي التلويح المتقوم ما يجب إبقاؤه بعينه أو بمثله أو بقيمته والخمر يجب اجتنابها بالنص ،فلم تكن متقومة ا هـ . "(كتاب البيع:5/435،434ط:رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 176/02،03