بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زانی کا نکاح مزنیہ کی پھوپھی سے یا اس کی بیٹی سے کرنے کا حکم

زانی کا نکاح مزنیہ کی پھوپھی سے یا اس کی بیٹی سے کرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ

۱۔        کیا زانی کا نکاح مزنیہ کی پھوپھی سے ہوسکتا ہے ،اور کیا زانی کا نکاح مزنیہ کی پھوپھی کی بیٹی سے ہوسکتا ہے،پھوپھی اور اس کی بیٹی اصول و فروع میں داخل ہیں ،یا نہیں ؟

۲۔         زانی نے اپنے سالے کے ساتھ کالج کے زمانے میں بدفعلی کی یعنی لواطت کیاتھا، آپ میرے دونوں سوال کا الگ الگ جواب دیجیے ،مجھے اس نکاح کے بارے میں جاننا ہے کہ کیاوہ نکاح جائز اور منعقد ہے ، دو وجہوں میں سے  کسی وجہ سے نکاح کی صحت پر کوئی اثر پڑے گا،یا علیحدگی کرنا لازم ہوگی؟   دونوں میں سے کسی وجہ سے حرمت مصاھرت بھی ثابت ہوگی ،یا نہیں ؟ براہ ِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں ۔

جواب 

۱۔       وا ضح رہے  زنا  کی وجہ سے حرمت مصا ہرت ثا بت ہو جا تی ہے ، جس سے مزنیہ کے اصو ل و فرو ع زانی پر اور زانی کےاصول وفروع مزنیہ پر حرام  ہو جا تے  ہیں ، البتہ زانی کا نکاح مزنیہ کی پھو پھی اور اس کی بیٹی سے ہو سکتا ہے ، کیو نکہ مزنیہ کی پھو پھی اور اس کی بیٹی اصو ل و فرو ع میں داخل  نہیں ہیں  ۔ 

۲۔      لواطت گناہ کبیرہ ہے ، جس کی سخت سے  سخت  وعیدیں آئی ہیں ، لیکن اس سے نکاح پر کوئی اثر  نہیں پڑے  گا ۔

 

لمافي "الدر مع الرد":

"قوله: (وحرم أيضا بالصهرية أصل مزيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الاربع: حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا، وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطئ الحلال، ويحل لاصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها".(كتاب النكاح :فصل في المحرمات، 4/113ط: رشيدية).

 وفي "البحرالرائق":

"( قوله والزنا واللمس والنظر بشهوة يوجب حرمة المصاهرة ) وقال الشافعي الزنا لا يوجب حرمة المصاهرة ؛ لأنها نعمة فلا تنال بالمحظور ، ولنا : أن الوطء سبب الجزئية بواسطة الولد حتى يضاف إلى كل واحد منهما كملا فيصير أصولها وفروعها كأصوله وفروعه ، وكذلك على العكس والاستمتاع بالجزء حرام إلا في موضع الضرورة وهي الموطوءة والوطء محرم من حيث إنه سبب الولد لا من حيث إنه زنا واللمس والنظر سبب داع إلى الوطء فيقام مقامه في موضع الاحتياط كذا في الهداية".(كتاب النكاح فصل في المحرمات: 3/ 173 : ط:  رشيدية)

وفي "حاشية ابن عابدين":

"تتمة: للواطة أحكام أخر: لا يجب بها المهر ولا العدة في النكاح الفاسد ولا في المأتي بها لشبهة ولا يحصل بها التحليل للزوج الأول ولا تثبت بها الرجعة ولا حرمة المصاهرة عند الأكثر".(كتاب الحدود ،مطلب :لاتكون اللواطة في الجنة ،6/45،ط:رشيدية). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/116،117