بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رقم کی بجائے سامان بطور زکوٰۃ دینے کا حکم

رقم کی بجائے سامان بطور زکوٰۃ دینے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں ایک شخص صاحب نصاب تھا، اس پر زکوۃ بھی واجب تھی، لیکن بوجوہ وہ زکوۃ وقت پر ادا نہ کر سکا، بعد میں گردش زمان سے وہ زکوۃ اداکرنے پر قادر نہ رہا، اب وہ زکوۃ ادا کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے لیے یہ طریقہ اپناتا ہے کہ وہ زکوۃ میں اپنا ساز و سامان دیتا ہے ۔ مثلاً موٹر سائیکل یا جانور وغیرہ ، اور کرتا یوں ہے کہ اس نے موٹر سائیکل اگر مثلاً پچاس ہزار کی لی تھی تو زکوۃ میں وہ اس کو ستر ہزار کا شمار کرتا ہے ۔ کیا اس طریقے سے زکوۃ ادا کرنا درست ہے؟ اگر نہیں تو متبادل طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟

جواب 

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ طریقے پر زکوٰۃ ادا کرنا درست نہیں ہے، بلکہ ان چیزوں کی مارکیٹ ویلیو دیکھی جائے گی،جہاں وہ زکوٰۃ ادا کر رہا ہے،وہاں بازار میں  ان چیزوں  کی اس وقت جو رائج قیمت ہوگی، اس قیمت کے اعتبار سے ان کو زکوٰۃ میں شمار کیا جائے گا ۔

لما في المبسوط:

قال: "ويجزئه أن يعطي من الواجب جنسا آخر من المكيل والموزون أو العروض أو غير ذلك بقيمته". كتاب الزكاة،باب العشر1/186،ط:مكتبه حبيبية). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/296