بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رضاعی والدہ کی نسبی اولاد سے نکاح کا حکم

رضاعی والدہ کی نسبی اولاد سے نکاح کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ زینب کی بڑی بیٹی کے ساتھ ہندہ کے بڑے بیٹے نے دودھ پیا ہے،اب کیا ہندہ کا مذکورہ بیٹا زینب کی اس بیٹی کے علاوہ باقی بیٹیوں سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟البتہ زینب اور ہندہ آپس میں بہنیں ہیں، کہ دونوں نے زینب کا دودھ پیا ہے۔

جواب 

صورت مسئولہ میں زینب کی بڑی بیٹی جس طرح ہندہ کے بڑےبیٹے کی رضاعی بہن ہے،اسی طرح زینب کی تمام بیٹیاں بھی اس کے لئے رضاعی بہنیں ہیں،لہذا زینب کی تمام بیٹیوں کا اس سے نکاح کرنا جائز نہیں ۔

لما في التنوير مع الرد:

"(ولا) حل (بين الرضيعة وولد مرضعتها)أي: التي أرضعتها (وولد ولدها) لانه ولد الاخ.قوله:(وولد مرضعتها)...... لو كانت أم البنات أرضعت أحد البنين وأم البنين أرضعت إحدى البنات لم يكن للابن المرتضع من أم البنات أن يتزوج واحدة منهن وكان لإخوته أن يتزوجوا بنات الأخرى إلا الابنة التي أرضعتها أمهم وحدها؛لأنها أختهم من الرضاعة".(باب الرضاع،4/399،ط:رشيدية)

وفي الهداية:

"ولا يتزوج المرضعة أحد من ولد التي أرضعت ؛لأنه أخوها، ولا ولد ولدها لأنه ولد أخيها".(كتاب الرضاع:2/330،ط:رشيدية). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/328