بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رسم مہندی، مائیوں اور لڑکی کو قرآن کریم کے سائے میں رخصت کرنے کا حکم

رسم مہندی، مائیوں اور لڑکی کو قرآن کریم کے سائے میں رخصت کرنے کا حکم

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ان مسائل کے بارے میں کہ:(1)  شادی کے موقع پر مہندی کی رسم کرنا او راس میں شرکت کرنا کیسا ہے؟
(2) شادی سے ایک دو دن قبل مائیوں میں ( لڑکی کو) بٹھایا جاتا ہے جس میں سات عورتیں ( شادی شدہ) لڑکی کے سر میں یکے بعدد یگرے تیل لگاتی ہیں او رایسا نہ کرنے والوں کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے، رسم مائیوں کا اسلام میں حکم، اس میں شرکت کا حکم او راس رسم میں شرکت نہ کرنے والوں کو نگاہِ حقارت سے دیکھنا کیسا ہے؟
(3) رخصتی کے موقع پر لڑکے اور لڑکی (دولہا اور لہن) کے سر پر قرآن کریم رکھنا ( لڑکی کو قرآن کے سائے میں رخصت کرنا) کیسا ہے ؟
ازراہِ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

جواب 

(1)  عام حالات میں عورت کے لیے اگرچہ مہندی لگانا فی نفسہ جائزدرست ہے ، لیکن بطورِ رسم لگانا، اس کے لیے لوگوں کو دعوت دینا،نکاح سے پہلے اس کو ضروری خیال کرنا، نہ کرنے والے کو بنظرِ حقارت دیکھنا اور طعنے دینا، اجنبی مردوں اور عورتوں کا اختلاط ہونا اور خصوصاً دولہا کے ہاتھوں پر مہندی لگانا تو مذکورہ مفاسد کے ساتھ ساتھ عورتوں کے ساتھ مشابہت آنے کی بناء پربھی ناجائز ہے، او راس رسم سے اجتناب بہر حال لازم وضروری ہے۔
(2) مائیوں کی رسم تو خالصةً ہندوانہ رسم ہونے کی بناء پر ویسے ہی ناجائز ہے او رجب مذکورہ مفاسد بھی اس میں پائے جائیں تو اس کی قباحت وشناعت مزید بڑھ جاتی ہے۔
(3) دولہا ودلہن کو قرآن کے سائے میں رخصت کرنا یہ بھی ایک غیر ضروری چیز کو ضروری قرار دینے کے مترادف ہے اور جتنے مفاسد نمبر ایک میں پائے جاتے ہیں وہ یہاں بھی پائے جاتے ہیں، لہٰذا یہ بھی ناجائز ہے۔
باقی رہی یہ بات کہ ان مجالس ورسوم میں کسی مسلمان کا شرکت کرنا سو یہ کسی بھی طور سے جائز نہیں، او رشرکت نہ کرنے والوں کو بنظر حقارت دیکھنا اوراس پر ان کو عار دلانا تو بہت سخت گناہ ہے، بلکہ وہ تو اس بات پر قابل تعریف ہیں کہ وہ ان فضولیات سے بچ گئے نہ کہ قابلِ تنقیص۔
فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی