بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رزق میں وسعت اور کشادگی کے لیے وظیفہ

رزق میں وسعت اور کشادگی کے لیے وظیفہ

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ رزق کی تنگی ہے کئی سالوں سے ، کئی بار آڈر بک ہوتے ہوتے رہ گئے ،کئی بار گاہک کے ساتھ معاملات طے ہوگئے ،مگر عین وقت پر ڈیل نہ ہوسکی ،کافی پریشان ہوں،کچھ وظیفہ بتائیں۔

جواب

رزق میں وسعت وکشادگی کے لیے ہر رات  مغرب کے بعدسورۃواقعۃ  پڑھا کریں اور کثرت کےساتھ درودشریف  پڑھ کر  توبہ واستغفار کریں ،نمازوں کا اہتمام کریں،خاص طورپرفجر  کی  نمازباجماعت ادا کرنے کی کوشش کریں،اور ساتھ ساتھ دعائیں کرکے اللہ تعا لیٰ سے مانگتے بھی رہیں۔

لمافي "القرآن الكريم":

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا.(سورة النوح:رقم الآية/12،10)

وفي"عمل اليوم والليلة لابن السني":

"أن ابن مسعود رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من قرأ سورة الواقعة في كل ليلة لم تصبه فاقة أبدا» قال: وقد أمرت بناتي أن يقرأنها كل ليلة".(باب مايستحب أن يقرأ في اليوم والليلة:630،رقم الحديث:680،مكتبة الشيخ)

وفي "شعب الإيمان":

"عن ا بن مسعود قال :قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :من قرأ سورة الواقعة في كل ليلة لم تصبه فاقة أبدا ،وكان ابن مسعود يأمر بناته يقرأن بها  كل ليلة".(باب الحادي عشرفي الخوف من الله تعالى:2/492، رقم الحديث: 2269،ط:دارالكتب العلمية بيروت).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/282