بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دین اسلام میں فرقہ بندی کیوں؟

دین اسلام میں فرقہ بندی کیوں؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ نئے ذہن رکھنے والوں کی طرف سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ بریلوی ایک قسم کا دین پیش کرتے ہیں اور دیوبندی دوسرے قسم کا بریلوی کو تو چھوڑئیے پھر دیوبندیوں میں کتنے فرقے اور سب کے دعوے جدا جدا ہیں تو آخر ہم کس کاپیش کردہ دین مان لیں؟ ان کا آپس میں اتفاق نہیں؟ اس کے متعلق ہماری رہنمائی فرمائیں۔

جواب

لوگوں کا یہ اعتراض بھی غلط ہے جو لوگ ہدایت کے سچے طالب ہوتے ہیں، اﷲ تعالیٰ نہیں سیدھا راستہ دکھا ہی دیتے ہیں۔ دنیوی نظام کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جہاں لوگوں میں اختلاف نہ پایا جاتا ہو، علاج ومعالجہ کے سلسلہ میں ہمیشہ ڈاکٹروں میں اختلاف پایا جاتا ہے،سیاسی لوگوں کا اختلاف سب کے سامنے ہے۔ ایسی صورت میں کیا لوگ اپنا علاج ومعالجہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور کیا دوسرے دنیوی دھندوں اور کاروبار کو محض اختلاف کی بناء پر چھوڑ بیٹھتے ہیں؟۔

مزید  تفصیل کے لیے مولانا یوسف لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ  کی کتاب ”اختلاف امت اور صراط مستقیم” کا مطالعہ مفید رہے گا۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی