بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

داڑھی کا وجوب اور اس کی مقدار

داڑھی کا وجوب اور اس کی مقدار

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ کے سلسلے میں:

داڑھی کے وجوب کی دلیل کہاں سے ملتی ہے کوئی ایسی حدیث جس میں داڑھی کو واجب کہا گیا ہو یا کوئی حدیث ایسی جس سے یہ ثابت ہو جائے کہ داڑھی رکھنا واجب ہے۔

ایک شخص نے داڑھی کے حوالے سے یہ کہا کہ داڑھی تو اتنی رکھنا ضروری ہے کہ جس سے چالیس قدم کے فاصلے سے پتہ چل جائے اور اس سلسلے میں اس نے یہ کہا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم سے ایک مٹھی سے زیادہ رکھنے کی ممانعت ہے یعنی زیادہ سے زیادہ ایک مٹھی ہے کم کتنی رکھنی ہے اس کا تو ذکر نہیں ہے کم تو کتنی بھی رکھو بس داڑھی ہو۔

کیاحضرت عمر کی بھی ایک مٹھی سے کم داڑھی تھی؟

جواب 

داڑھی تمام انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی متفقہ سنت، مردانہ فطرت اور شعارِ اسلام ہے ، آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے بار بار داڑھی رکھنے کا حکم فرمایا ہے او راسے صاف کرانے پر غیظ وغضب کا اظہار فرمایا ہے ، یہی وجہ ہے کہ داڑھی رکھنا تمام ائمہ اربعہ کے ہاں متفقہ طور پر واجب ہے اور منڈانا ایک مٹھی سے کم ہونے کی صورت میں کترانا بالاتفاق حرام، گناہ کبیرہ ، فسق، فطرتِ انسانی کی خلاف ورزی، شرافتِ انسانی کی توہین، جملہ انبیائے کرام علیہم السلام کی مخالفت اور اغوا ئے شیطان سے الله تعالیٰ کی تخلیق کو بگاڑنا ہے ، عورتوں کے ساتھ مشابہت کی بنا پر موجبِ لعنت ہے، مجوس، مشرکین، یہود ونصاری، فساق وفجار اور مغاربہ کا شیوہ ہے، تمام اولیاء الله او راکابر امت کی عملاً مخالفت ہے ، نماز، روزہ، حج غرض ہر عبادت کے دوران ساتھ رہنے والا گناہ ہے وغیرہ وغیرہ۔

باقی یہ کہنا کہ” داڑھی تو اتنی رکھنا ضروری ہے کہ جس کا چالیس قدم کے فاصلے سے پتہ چل جائے اور داڑھی کی کم مقدار متعین نہیں جتنی بھی ہو بس داڑھی ہو او رحضرت عمر رضی الله عنہ کی داڑھی ایک مٹھی سے کم تھی وغیرہ “ بے بنیاد اور بے دلیل ہے ، دشمنانِ دین کا پروپیگنڈہ ہے ، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم او رحضرات صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیہم اجمعین پر بہتان تراشی ہے۔
فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی