بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خودکشی فعل حرام ہے

خودکشی فعل حرام ہے

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ خود کشی کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ براہ مہربانی فرماکر تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

قرآن وسنت میں خودکشی کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے، اور جا بجا اس کے بارے میں وعیدیں آئی  ہیں، چناں چہ قرآن مجید میں اﷲ تعالی نے ایک جگہ خودکشی سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے ” اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو“ ۔
(وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَکُمْ إِنَّ اللّہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْماً، وَمَن یَفْعَلْ ذَلِکَ عُدْوَاناً وَظُلْماً فَسَوْفَ نُصْلِیْہِ نَاراً ).(سورۃ النسآء:٢٩۔٣٠)
''أو لا یتقل الرجال نفسہ کما یفعلہ بعض الجھلۃ.'' ( تفسیر الکشاف، ٥٠٢/١، سورۃ النسآء:٢٩)
اس میں باتفاق مفسرین خود کشی بھی داخل ہے، چناں چہ علامہ زمحشریؒ نے اپنی شہرہ آفاق تفسیر کشاف میں اس آیت کے تحت لکھا ہے:
”کوئی آدمی اپنے آپ کو قتل نہ کرے، جیسا کہ بعض جاہل لوگ کرتے ہیں ،کیوں کہ جس نے اپنے آپ کو قتل کیا ، تو ہم اس کو سخت عذاب والی آگ میں ڈال دیں گے“ ۔
”وبھذا علمان القرآن أن جنایۃ الإنسان علی غیرہ جنایۃ علی نفسہ، کما أنہ أرشد نا باحترام نفوس الناس بعدھا کنفوسنا۔ إلی أن نحترم نفوسنا بالأولیٰ فلا یباح بحال أن یقتل أحد نفسہ ، لیسترلیح من الغم وشقاء الحیاۃ، فمھما اشتدت المصائب بالمؤمن، فعلیہ لن یصبر ویحتسب ولا ییأس من الفرج الإلھیّ“ ۔(تفسر المرغی:١٩/٥، سورۃ النسآء:٢٩، مصطفی البابی الحلبی)
استاذ کبیر احمدمصطفیٰ مراغی اس آیت کی تفسیر میں یوں رقم طراز ہیں:
” اس طریقے سے قرآن مجید نے ہمیں بتا دیا کہ ایک انسان کی دوسرے انسان پرزیادتی اپنے آپ پر زیادتی کرنے کے مترادف ہے، جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں بتایا کہ دوسروں کی جانوں کو اپنی جان شمار کرکے ان کا احترام کریں،اس سے معلوم ہوا کہ اپنی جان کا احترام بطریق اولیٰ کرنا چاہیے، اس لیے زندگی کی مشقتوں اور غموں سے نجات پانے کے لیے کسی بھی حالت میں کسی کو بھی اپنے آپ کو قتل کرنا جائز نہیں اور مومن پر جس وقت سخت مصیبتیں نازل ہو جائیں، تو ان پر ثواب کی نیت کرکے صبر کرنا چاہیے اور نا امید نہ ہونا چاہیےکہ اﷲ تعالیٰ ان مصائب کو اپنے فضل سے دور نہیں کرے گا، یہی وجہ ہے کہ خود کشیاں وہاں پر زیادہ کی جاتی ہیں، جہاں ایمان کم اور کفر وبے دینی زیادہ ہو“۔
احادیث مبارکہ میں بھی خود کشی کو ایک مذموم فعل قرار دیتے ہوئے اس کی سخت سزا پر متنبّہ کیا گیا ہے، چناں چہ بخاری شریف میں اس کے لیے ایک مستقل باب منعقد کیا گیا ہے، جس میں ان احادیث کو ذکر کیا گیا ہے، جو خودکشی کی مذمت میں وارد ہوئی ہیں۔
حضرت ثابت بن ضحاکؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
” کہ جو کوئی اپنے آپ کو تیز دھار دار آلے سے قتل کرے، تو اس کو جہنم میں اسی آلے سے عذاب دیا جائے گا“۔
''وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدُ اللَّہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: " کَانَ فِیمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ رَجُلٌ بِہِ جُرْحٌ فجزِعَ فأخذَ سکیّناً فحزَّ بِہَا یَدَہُ فَمَا رَقَأَ الدَّمُ حَتَّی مَاتَ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی: بَادَرَنِی عَبْدِی بِنَفْسِہِ فَحَرَّمْتُ عَلَیْہِ الْجنَّۃ.''( مشکوٰۃ٣٠٠/٢، قدیمی)
حضرت جندب رضی اﷲ عنہ نبی پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں:
”کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کے جسم میں زخم تھا، جس سےتنگ آکر اس نے خود کشی کر لی، تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: کہ میرے بندے نے ( اپنے آپ کو قتل کرکے) جلد بازی سے کام لیا، اس لیے میں نے اس پر جنت حرام کر دی“ ۔
'' وعن أبی ھریرۃ۔ رضی اﷲ عنہ۔ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: الَّذِی یَخْنُقُ نَفْسَہُ یَخْنُقُہَا فِی النَّارِ وَالَّذِی یَطْعَنُہَا یَطْعَنُہَا فِی النَّارِ.''( مشکوٰۃ المصابیح، ٢٩٩/٢، کتاب القصاص قدیمی)
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” وہ شخص جو اپنا گلہ گھونٹ کر خود کشی کر لے، وہ جہنم کی آگ میں بھی ایسا ہی کرتا رہے گا اور جو شخص نیزہ مار کر خود کشی کرلے وہ جہنم میں بھی ایسا ہی کرتا رہے گا“۔
مذکورہ بالا تفصیل سے معلوا ہوا کہ خود کشی قرآن وسنت کی نظر میں کتنا برا فعل ہے، اس میں دنیا و آخرت کا نقصان ہے، لہٰذا اس کو نجات کا باعث سمجھنے کے بجائے دائمی تکلیف کا سبب سمجھ کر اسے بچنا چاہیے، علمائے کرام کو چاہیے کہ اس فعل کے بڑھتے ہوئے رحجان کی حوصلہ شکنی کریں ، تاکہ اس کا بر وقت تدارک کیا جاسکے۔
''عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَرَدَّی مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَہُ فَہُوَ فِی نَارِ جَہَنَّمَ یَتَرَدَّی فِیہَا خَالِدًا مُخَلَّدًا فِیہَا أَبَدًا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَمَنْ قَتَلَہ بِحَدِیدَۃٍ فَحَدِیدَتُہُ فِی یَدِہِ یَتَوَجَّأُ بِہَا فِی بَطْنِہِ فِی نَارِ جہنَّمَ خَالِدا مخلَّداً فِیہَا أبدا.''(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب القصاص،٢٩٩/٢، قدیمی)۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی