بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خطبہ کے دوران چندہ کرنے کا حکم

خطبہ کے دوران چندہ کرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ جمعہ کے دن امام  صاحب کے منبر پر خطبہ دینے کے لیے بیٹھ جانے کے بعد ، اور اذان اور خطبہ کے دوران چندہ کرنے  اور اس کو چندہ دینے کا  کیا حکم ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں ۔ شکریہ

جواب 

جمعہ کے دن امام صاحب کے منبر پرخطبہ دینے کے لیےبیٹھ جانے کے بعد اوراذان اور خطبہ کے دوران چندہ کرنا اور چندہ دینا ہر گز جائز نہیں ہے ،لہذا چندہ کے لئے کوئی دوسرا وقت مقرر کرنا چاہئے۔

لما في صحيح البخاري :

"عن ابي هريرة،أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال: ( إذا قلت لصاحبك يوم الجمعة أنصت والإمام يخطب فقد لغوت )" (كتاب الجمعه،باب الإنصات يوم الجمعة والإمام يخطب،34/934،ص:150، ط :دارالسلام).

وفي  مصنف ابن أبي شيبة:

"عن عطاء،  عن ابن عباس وابن عمر :أنهما كانا يكرهان الصلاة والكلام يوم الجمعة بعد خروج الامام"(كتاب الجمعه،باب في الكلام إذاصعدالإمام المنبروالإمام يخطب،رقم الحديث:5340)4/103،ط:إدارة القرآن والعلوم الأسلامية).

وفي التنوير مع الدر :

"( إذا خرج الإمام )من الحجرة،إن كان،وإلا فقيامه للصعود،شرح المجمع ( فلا صلاة ولا كلام إلى تمامها ) وإن كان فيها ذكر الظلمة في الأصح.......( وكل ما حرم في الصلاة حرم فيها ) أي: في الخطبة.خلاصة وغيرها،فيحرم أكل وشرب وكلام ولو تسبيحا،أو رد سلام أو أمر بمعروف بل يجب عليه أن يستمع ويسكت".(كتاب الصلاة ،باب الجمعة،3/ 38،39 ،ط: رشيدية). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/329