بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حیلہ اسقاط اور دورقرآن کا شرعی حکم

حیلہ اسقاط اور دورقرآن کا شرعی حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ۱۔ صوبہ سرحد، پنجاب، سندھ، کے بعض دیہاتی علاقوں میں بعض نام نہاد مولویوں نے یہ بات مشہور کر رکھی ہے کہ اگر کسی کے ہاں میت ہو جاتی ہے تو اس میت کے پیچھے قرآن کریم پھیرا جاتا ہےاور ان کاگمان یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کرنے سے اس مردے کے تمام گناہ صغیرہ و کبیرہ معاف ہو جاتے ہیں،اور بطور دلیل کے حضرت ابن عمرؓ اور فتاویٰ عالمگیریہ اور فتاوی سمرقندی ابوللیث کو پیش کرتے ہیں،مہربانی فرما کر وضاحت فرمائیں کہ کیا ان کا ثبوت قرآن و حدیث اور فقہا کرام کی کتابوں میں ہے یا نہیں؟ اور ان کا اس طرح کرنا درست ہے یا نہیں؟خصوصاً جب میت ان چیزوں کی وصیت کرے اور نیز یہ بھی بتائیں کہ

۲۔ ان کا علماء دیوبند سے کوئی تعلق ہے یا نہیں؟

۳۔ ان کے پیچھے نماز پڑھنا درست اور جائز ہے یا نہیں؟

جواب

۱۔آدمی کے مرنے کے بعد قرآن کریم پھرانا اور یہ سمجھنا کہ اس سے مردے کے گناہ صغیرہ و کبیرہ معاف ہو جاتے ہیں نہ قرآن کریم سے ثابت ہے نہ سنت نبوی سے اور نہ ہی فقہاء امت اس کی اجازت دیتے ہیں اور علما کرام نے اسقاط کی جو صورت نکالی ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی مرنے کی حالت کو پہنچ گیا اور اس کی ذمے کچھ نمازیں، روزے اور دیگر حقوق اﷲہیں اور وہ باوجود ارادے کے ان کو ادا نہیں کرسکا اور اب اس میں طاقت ان کی ادائیگی کی نہیں تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے ترکے میں سے ان کے فدیے کی وصیت کرجائے، جو ترکے کے ایک تہائی میں نافذ ہوسکے گی، اگر ایک تہائی کے اندر اندر یہ فدیہ ادا ہوجائے تو بہتر ہے ،ورنہ ایک تہائی ترکے سے جتنے حقوق کا فدیہ ادا ہو جائے کردیاجائے ،باقی کے لیے اسقاط کا حیلہ انتہائی مجبوری میں اختیار کیا جاسکتا ہے، لیکن وہ بھی اسی طرح جیسا کہ علماء نے بیان کیا ہے۔

۲۔ اور آج کل جو حیلہ اسقاط اور دور قرآن کا رواج پڑگیا ہے یہ قطعاً ناجائز ہے اور اس کا علماء دیوبند سے کوئی تعلق نہیں۔

۳۔ جو لوگ ایسا کہتے اور کرتے ہیں وہ مبتدع اور فاسق ہیں، ان کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے ،اور ان کو جان بوجھ کر امام بنانا سخت گناہ ہے۔

'' والقضاء یجب بما یجب بہ الاداء عند المحققین خلافا لبعض۔۔۔۔ النص الموجب للآداء، وھو قولہ تعالی: ''أقیمو الصلوٰۃ'' دال بعینہ علی وجوب القضاء.'' ( نورالانوار مبحث الامر٣٤٠، سعید)

''ولومات وعلیہ صلوات فائتہ وأوصی بلاکفارہ یعںی من ثلث مالہ، ولو لم یتدرک ملاً یستقرض وارثہ نصف صاع مثلاً ویدفعہ لفقیر ثم یدفعہ الفقیر للوارث، ثم وثم حتی یتم.'' ( الدرالمحتار، باب قضاء الفوائت ٢٠/٧٢، سعید)

''وقولہ ولم یترک مالاً أی اصلاً أو بحان ما أوصی بہ زاد فی الإمداد: أو لم یوص بشی وأراد الولی التبرع۔۔۔ واشار بالشرع إلی أن ذلک لیس بواجب علی الولی ونص فی تبین المحارم فقال: لا یجب علی ولی فعل الدور وإن أوصی بہ المیت؛ لأنھا وصیتہ بالتبرع والواجب علی المیت أن یوصی بما یفی بما علیہ ان لم یضق الثلث عنہ.(الدر المحتار، باب قضاء الفوانت٢٠غ٧٢،٧٣، سعید)

''ألا لا تظلموا ألا لا یحل مال إمرء إلا بطیب نفس منہ.''(مشکوٰۃ المصابیح١/٢٥٥، باب الغضب والعاویہ، قدیمی)

ویشترط ان یکون الواھب عاقلاً بالغاً فئناء علیہ لاتصلح ھبۃ الصغیر المجنون ما لمعتوہ ولما الھبۃ لھو لاء وصحیحۃ:
(بدائع الصنائع، کتاب الھبۃ فصل فی شرائط٩٠/٩٤، ادارالکتب)

'' والاولی بعد تدویرھا أن یستاووافیھا ؛ لأنھم انما حضرو الیعطو امنھا فنفوسھم متشوقۃ للأخذ لاسیما المساکین منھم.'' (حاشیۃ الطحاوی علی الدر باب قضاء الفوانت١/٣٠٨، دارالمعرفہ)

'' ویجب الاحتراز من أن یلاحظ الوصی عند دفع الصرۃ للفقیر الھزل أو الحیلۃ، بل یجب أن یدفعھا عازما علی تملیکھا منہ حقیقۃ لا تحیلاماحظاً أن للفقیر إذا أبی عندھبتھا إلی الولی کان لہ ذلک ولا یجبر علی الھبۃ.'' ( رسائل ابن عابدین١/٢٢٥، سھیل الیڈمی).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی