بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خود کشی اور تقدیر

خود کشی اور تقدیر

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ایک انسان اتفاقاً کسی حادثہ میں فوت ہو جاتا ہے ،یا ایک انسان بندوق اٹھا کر دوسرے انسان کو مار دیتا ،یا ایک انسان خود کشی کر لیتا ہے،پوچھنا یہ ہے کہ یہ موت مقررہ وقت پر آئی ہے ،یا انسان کی غلطی کی وجہ سے آئی ہے۔ براہ مہربانی جواب سے مطلع فرمائیں؟

جواب

موت تو وقتِ مقررہ پر ہی آئی ہے، البتہ قاتل کا ناحق خون بہانا اور خود کشی کرنے والے کا خود کشی کرنا ان کے اختیار سے ہے، اور اختیاری جرم کے ارتکاب پر ان کو سزا ملے گی، برے اور ناجائز  کام بھی چوں کہ انسان اپنی مرضی کرتا ہے، اس لیے ان میں تقدیر کا حوالہ دینا خلاف ادب ہے، آدمی کو اپنی غلطی کا اعتراف کر لینا چاہیے۔
لما في التنزيل:
''فَإِذَا جَاء أَجَلُہُمْ لاَ یَسْتَأْخِرُونَ سَاعَۃً وَلاَ یَسْتَقْدِمُونَ.'' (الأحراف:٣٤)

وفي مشکوٰۃ المصابیح:

''عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْر۔رضی اﷲ عنہما۔ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ کَتَبَ اللَّہُ مَقَادِیرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ یَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ.''(١٩/١، کتاب الإیمان، قدیمی)۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی