بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا گوشت

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا گوشت

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو قربانی کی اس قربانی کا گوشت کسی نے کھایا؟برائے کرم بحوالہ کتب جواب سے نوازیں؟

جواب

سابقہ امتوں میں قربانی کے گوشت کو کھانے کی ممانعت تھی۔ یہ صرف امت محمدیہ صلی اﷲ علیہ وسلم پر خصوصی انعام ہوا کہ قربانی کا گوشت ومال غنیمت ان کے لیے حلال کر دیے گئے حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے خصوصی فضائل اور انعامات الہٰیہ میں ذکر فرمایا۔
سابقہ امتوں میں قربانی اور مال غنیمت (جہاد کی قبولیت) جس کو اﷲ تعالیٰ قبول فرماتے تھے تو ایک آگ آسمان سے آتی تھی اور اس کو جلا دیتی تھی، سورہ آل عمران میں اس کا ذکر صراحت سے آیا ہے اور یہ اس زمانہ میں قبول ہونے کی علامت سمجھی جاتی تھی ،لیکن چوں کہ یہ دنبہ جنت سے لایا گیا تھا جو جنت سے آیا ہو اس پر آگ اثر نہیں کرتی اس بنا ء پر اس دنبہ کا گوشت درندوں اور پرندوں نے کھایا جیسا کہ تفسیر جلالین کے حاشیہ پر صاوی کے حوالہ سے لکھا ہوا ہے ۔ ترجمہ: اس دنبہ کا گوشت درندوں اور پرندوں نے کھایا۔

لما في تفسير جلالين:
واتل یا محمد علیھم علی قومک بنا خبر ابنی ادم ھابیل وقابیل بلاحق متلعق باتل اذقربا قربانہ الی اﷲ یھو کبش لھا بیل وزرع لقابیل تقبل من احدھما وھو ھابیل بأن نذلت نار من السماء فاکلہ قربانہ. (سورۃ المائدہ:98، قدیمی)

وفيه أيضا:
وفدینہ ای المامور بذبحہ وھو اسماعیل او اسحاق قولان بذبح بکبش عظیم من الجنۃ وھو الذی قربہ ھابیل جاء بہ جبرئیل علیہ السلام فذبحہ السید ابراہیم مکبرا.'' قال تحت قولہ: فذبحہ'' وما بقی من الکبش اٰکلتہ السباع والطیور ؛ لان النار لا تؤثرفیما ہومن الجنۃ، صاوی:''
(جلالین377، سورۃ الصافات، قدیمی). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 14/371