بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ابلیس جنت میں کیسے داخل ہوا؟

ابلیس جنت میں کیسے داخل ہوا؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ آدم علیہ السلام کوباحکمِ خدا سجدہ نہ کرنے پر ابلیس کو جنت سے نکال کر زمین پر پھینک دیا گیا۔ یا مردود ٹھہرا دیا گیا۔ تو یہ ابلیس آدم علیہ السلام کو بہکانے کے لیے جنت میں کیوں کر داخل ہوسکا، جب کہ اوّل نافرمانی پرجنت سے باہر کیا گیا تھا؟

جواب

صورت مسؤلہ میں اوّلاً تو یہ بحث ہی فضول ہے کہ جب شیطان کوجنت سے مردود کرکے نکال دیا گیا تو پھر وہ حضرت آدم علیہ السلام کو بہکانے کے لیے وہاں کس طرح داخل ہوا؟ کیوں کہ شیطان کے بہکانے اور وسوسہ ڈالنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ جنت میں داخل ہو کر دلی وسوسہ ڈالے ،جنات وشیاطین کو حق تعالیٰ نے یہ قدرت دی ہے کہ وہ دور سے ہی دل میں وسوسہ ڈال سکتے ہیں۔ ثانیاً اگر داخل ہو کر بالمشافہ گفتگو ہی کو تسلیم کر لیا جائے تو اس بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں بعض کہتے ہیں کہ شیطان جنت میں داخل ہو گیا تھا او راس کا دخول اس لیے ہوا تاکہ حضرت آدم علیہ السلام کو آزمایا جائے اور بعض کہتے ہیں کہ شیطان جنت کے دروازے پر کھڑا تھا اور حضرت آدم وحوا علیہم السلام نے اسے اندر بلا لیا اور بعض کہتے ہیں کہ شیطان ایک سانپ کے منہ میں بیٹھ کر جنت میں داخل ہو گیا تھا اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ شیطان جنت کے اندر نہیں گیا تھا بلکہ جنت کے باہر کھڑا رہا،اس نے باہر سے ہی وسوسہ ڈال دیا کیوں کہ وسوسہ ڈالنے کے لیے قریب ہونا ضروری نہیں ہے ۔ چناں چہ علامہ زمحشریؒ فرماتے ہیں کہ یہ بھی احتمال ہے کہ شیطان زمین پر ہوا اور حضرت آدم علیہ السلام جنت میں ہوں، اور شیطان نے زمین پر ہوتے ہوئے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈال دیا ہو، الحاصل اس قسم کی تحقیق میں پڑنا بے فائدہ اور لایعنی بحث ہے۔
لمافي تفسیر البیضاوی:

'' إنه کیف توصل إلی أزلاله ما بعد ما قیل له: (أخرج منها، فإنک رجیم) فقیل: إنه منع من الدخول علی جهة التکرمة کما کان یدخل الملائكة ولم یمنع أن یدخل للسوسة ابتلاء لآدم وحواء، وقیل: قام عند الباب فناداهما.''
(البقرۃ:٣٦،ص:٦٩، سعید). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 12/04