بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جس کمپنی میں دوسری کمپنی کالیبل لگا کر چیزیں فروخت کی جاتی ہوں وہاں ملازمت کرنا

جس کمپنی میں دوسری کمپنی کالیبل لگا کر چیزیں فروخت کی جاتی ہوں وہاں ملازمت کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میرے  دو بھائی کریم کی  کمپنی میں کام کرتے ہیں اب بھائی کا کہنا ہے کہ  اس کمپنی میں اپنا  کریم بنا کر  دوسری بڑی کمپنیوں کا لیبل لگا کر فروخت کرتے ہیں،  حالانکہ ان کمپنی والوں  کو معلوم نہیں کہ  ہمارا لیبل (اسٹیکر ) دوسری  کمپنی استعمال کرتی ہے تو   کیا اس کمپنی  میں نوکری   کرنا حلال ہے یا حرام؟  برائے مہربانی ہماری راہنمائی فرمائیں۔

جواب 

ایک کمپنی کا لیبل دوسری کمپنی کے لیے اس کی اجازت  کے بغیر  استعمال کرنا جائز نہیں، بلکہ یہ غلط بیانی اور دھوکہ ہے،  جس کی  شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ہے البتہ  اگر ملازم  اس لیبل لگانے یا بنانے  سے متعلق کام نہیں کرتا اور ملازم کا بنیادی کام خلافِ شرع نہیں  توایسی کمپنی میں  نوکری  کرنا درست  ہے۔

لما  في سنن الترمذي:

حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب وهو ابن عبد الرحمن القاري ح، وحدثنا أبو الأحوص محمد بن حيان، حدثنا ابن أبي حازم، كلاهما عن سهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا»

وفي مسند أحمد:

حدثنا محمد بن عبيد حدثنا عبيد الله عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الغرر وعن بيع الحصاة”(مسند أحمد: رقم الحديث:8884، 14/468، ط: مؤسسة الرسالة، بيروت)

وفي فقه البيوع:

وإن كان من نفس النوع وغير الصناعة المسماة، مثل أن يبيع الثوب الياباني، فيظهر أنه كوري من نفس النوع، فالبيع صحيح وللمشتري الخيار، لإن الصناعة المخصوصة أمر مرغوب فيه، وقد فات فيثبت خيار فوات الوصف

(فصل في: ظهور المبيع غير مبيع جنسا أو نوعاً أو وصفاً:صـ:427) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 172/127