بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جس لڑکی کو نکاح کا پیغام دیا جاتا ہے اس کو دیکھنے کا حکم

جس لڑکی کو نکاح کا پیغام دیا جاتا ہے اس کو دیکھنے کا حکم

سوال

1 کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلے میں کہ ہمارے خاندان میں یہ طریقہ ہے کہ جب لڑکے کی کہیں منگنی کی جاتی ہے تو لڑکی کو ایک کمرے میں بٹھا دیتے ہیں اور لڑکے کو اس کمرے سے گذرواتے ہیں مقصود یہ ہوتا ہے کہ لڑکا لڑکی کو ایک نظر دیکھ لے ، یا پھر یہ کرتے ہیں کہ جس کمرے میں لڑکا یا اس کے گھر والے بیٹھے ہوتے ہیں ، وہاں پر لڑکی کو کسی بہانے سے مثلاً چائے وغیرہ لوازمات دے کر بھیجتے ہیں تاکہ لڑکا او راس کے گھر والے اس کو دیکھ لیں ، شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے ؟
2. نیز اگر لڑکا لڑکی کی تصویر منگوا کر دیکھے تو کیا حکم ہے !

جواب

2،1  سوال مذکور میں آپ نے جو صورتیں درج کی ہیں ، شریعت میں اس کی اجازت نہیں ۔ اس طرح کے طریقے اختیار کرنے میں درج ذیل مفاسد موجود ہیں:
1… لڑکی کو ایک نمود ونمائش کی چیز بنا کر پیش کیا جاتا ہے، ہر کوئی آتا ہے اسے دیکھتا ہے او رپسند نہ آئے تومنع کر دیتا ہے، یہ بات انسانی وقار اور شرافت کے خلاف ہے ، نیز اس طرح کرنے سے لڑکی کی اپنی طبیعت پر بہت بُرا اثر پڑتا ہے اور وہ احساس کم تری کا شکار ہو جاتی ہے۔
2…بعض اوقات یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اس طرح کا اہتمام کرنے کے بعد اگر لڑکے والے منع کردیں تو یہ بات دونوں خاندانوں میں ایک دوسرے کے ساتھ ناراضگی کا سبب بنتی ہے۔
لہٰذا بہتر صورت یہ ہے کہ لڑکے کی رشتہ دار عورتوں میں سے بعض لڑکی کو دیکھنے جائیں او راس کی صفات کی خبر لڑکے کو کر دیں ۔ اس میں بہتر یہ ہے کہ اچانک اور بغیر بتائے جایا جائے تاکہ لڑکی کی صحیح اور اصل طبیعت کا اندازہ ہو جائے ، بتا کر جانے میں صحیح طبیعت اور صفات کا اندازہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ بعض شرم اور بعض تکلف کی وجہ سے مزاج اصلی سے واقف نہیں ہونے دیتیں۔
لڑکے کو اگر لڑکی دیکھنے کی ضرورت محسوس ہو تو ایک بار چھپ کر دیکھنے کی اجازت ہے کہ لڑکی کو پتا نہ چلے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔
جہاں تک آپ نے تصویر کا ذکر کیا تو تصویر کشی ویسے ہی حرام ہے لہٰذا تصویر منگوا کر دیکھنا جائز نہیں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی