بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جسم کے زائد بالوں کے کاٹنے کا حکم

جسم کے زائد بالوں کے کاٹنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ زیر ناف بالوں کے کاٹنے کی حد کہاں تک ہے بدن کے کون کون سے بالوں کا کا ٹنا جائز یا واجب ہے؟ او رکون سے ناجائز اور مکروہ ہیں ؟ تفصیل سے ذکر کریں۔

جواب 

مرد وعورت کے لیے اپنی شرم گاہ او رجائے پاخانے اوران کے ارد گرد کے بال کاٹنا ، اسی طرح موئے زیر بغل کاٹنا، مونچھوں کے کاٹنے میں مبالغہ کرنا سنت ہے ، ہفتے میں ایک بار کاٹنا مستحب ہے،اگر ہر ہفتے نہ کاٹ سکے تو پندرہ دن کے بعد کاٹے ، زیادہ سے زیادہ چالیس دن کے بعد نہ کاٹنے سے گناہ گار ہو گا مرد کے لیے ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے ، اس سے کم کروانا یا منڈوانا ناجائز وحرام ہے ، سر کے بالوں کو منڈوانا اور سنت کے مطابق چھوڑنا دونوں جائز ہیں مگر بعض بالوں کو کٹوانا او ربعض کو چھوڑنا منع ہے اس کے علاوہ پیٹھ اور سینے کے بال کا ٹنا بھی جائز ہے مگر خلاف اولیٰ ہے اور سفید بالوں کا نوچنا مکروہ ہے۔

عورت کے لیے سر کے بال منڈوانا ناجائز ہے ، اگر عورت کی داڑھی یا مونچھیں نکل آئیں تو ان کا کاٹنا مستحب ہے اور ابرووں کو باریک کرنا عورت کے لیے جائز نہیں، بلکہ ایسی عورت پر الله اور اس رسول صلی الله علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی