بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جب مسافر کے کسی ملک میں اٹھائیس روزے ہوئے ہوں بقیہ کی قضاء کا حکم

جب مسافر کے کسی ملک میں اٹھائیس روزے ہوئے ہوں بقیہ کی قضاء کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص باہر کسی ملک سفر پر جائے ،اور وہاں ایک روزہ زیادہ ہے، اور اس شخص کے  کل ۲۸ اٹھائیس روزے ہوئے ہیں، تو اس شخص کو ایک روزہ قضا کرنا ہوگا ،یا اس کی ضرورت نہیں ؟ راہنمائی فرمائیں ۔

جواب 

واضح رہے کہ اسلامی مہینہ  انتیس ،یا تیس کا ہوتا ہے، صورتِ مسئولہ میں چونکہ اس شخص کے اٹھائیس روزے ہوئے ،لہذا وہ جس ملک  میں ہے،اگر وہاں مہینہ انتیس کا ہوتو وہ ایک دن کے روزے کی قضاء کرے ،اگر تیس کا ہوتو دو دن کے روزوں کی قضاء کرنا  اس پر ضروری ہے ۔

لما  في الهندية:

إذا صام أهل مصر شهر رمضان على غير رؤية ثمانية وعشرين يوما ثم رأوا هلال شوال إن عدوا شعبان برؤيته ثلاثين يوما ، ولم يروا هلال رمضان قضوا يوما واحدا ، وإن صاموا تسعا وعشرين يوما ثم رأوا هلال شوال لا قضاء عليهم فإن عدوا هلال شعبان ثلاثين يوما من غير رؤية هلال شعبان ثم صاموا رمضان قضوا يومين كذا في الخلاصة .كتاب الصوم،الباب الثاني: في رؤية الهلال،1261،ط:دارالفكر)  فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 173/35