بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جان کے بدلےجان(جانور کے ذبح) کا صدقہ

جان کے بدلےجان(جانور کے ذبح) کا صدقہ

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میں اپنے بچوں کے لیے  صدقہ کرنا چاہتی ہوں،پہلے میں جب صدقہ کرتی تھی تو مرغی ،یا بکرے کی رقم نکال کر کسی مستحق کو دے دیتی تھی ،مگر ایک صاحب نے بتایا کہ جان کا صدقہ دینے کے لیے کسی جاندار کا صدقہ بکرے یا مرغی وغیرہ کا صدقہ ٹھیک ہے، روپے، پیسوں سے جان کا صدقہ نہیں ہوتا ،اب آپ اس مسئلہ کے متعلق ہماری رہنمائی فرمائیں کہ  اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

صورت مسؤلہ میں مذکورہ صاحب کا مقولہ کہ ”جان کے بدلے میں جان دینا چاہیے” یہ غلط مشہور ہے اس کی کوئی اصل وبنیاد شریعت اسلامیہ میں نہیں ہے؛ لہٰذا ان جیسی بے بنیاد غلط مشہور باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے، باقی صدقہ آپ جس طریقہ پر ادا کرتی ہیں، اس طریقہ پر بھی ادا ہوجاتا ہے۔

الفقه الاسلامی و ادلته:

يستحب أن يتصد ق بما تيسر، ولا يستقله، ولا يمتنع من الصدقة به لقلته وحقارته، فإن قليل الخير كثير عند الله تعالى، وما قبله الله تعالى وبارك فيه، فليس هو بقليل (١)، قال الله تعالى: {فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره} [الزلزلة:٧/ ٩٩]، وفي الصحيحين عن عدي بن حاتم: «اتقوا النار ولو بشق تمرة» وفي الصحيحين أيضا عن أبي هريرة: «يا نساء المسلمات لا تحقرن جارة أن تهدي لجارتها ولو فرسن شاة» والفرسن من البعير والشاة كالحافر من غيرهما. وروى النسائي وابن خزيمة وابن حبان عن أبي هريرة: «سبق درهم مئة ألف درهم، فقال رجل: وكيف ذاك يا رسول الله؟ قال: رجل له مال كثير أخذ من عرضه - جانبه- مئة ألف درهم تصدق بها، ورجل ليس له إلا درهمان، فأخذ أحدهما، فتصدق به.(2056/3، ط: دار الفکر).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 08/371