بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تھیلسیمیاکی بیماری کی وجہ سے اسقاط حمل کا حکم

تھیلسیمیاکی بیماری کی وجہ سے اسقاط حمل کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میرےدوبچوں کوتھیلیسمیابیماری کامسئلہ ہے،جس کی وجہ سےان کاخون نہیں بنتا،بلکہ انہیں ہرماہ  خون لگانا پڑتاہے،اب ڈاکٹروں نے سختی سےتاکیدکی ہے،کہ اب جب  بھی حمل ہو،تودو یاڈھائی ماہ میں ٹیسٹ کروانا ،اگرانہیں بھی یہ مسئلہ ہوا توحمل ضائع  کرناضروری ہوگا،اب دریافت طلب اموریہ ہیں کہ:

۱۔کیا  میں یہ ٹیسٹ کرواسکتاہوں یانہیں؟          

۲۔ٹیسٹ مثبت آنے کی صورت  میں شرعاً حمل ضائع کرنے کی اجازت ہےیا،نہیں؟ازراہِ کرم شریعت کے روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

مذکورہ جنیٹک  ٹیسٹ اس لیےکروانا،تاکہ بچے کی پیدائش سے پہلے اس کے موروثی امراض اورتخلیقی کمزوریاں معلوم ہوجائیں،اور اس کی  پیدائش کےبعداس کافوراً علاج کرانا مقصودہو،جائزہے،البتہ اگرٹیسٹ مثبت نکل آئے،توچونکہ تھیلیسمیا کی بیماری ایک مہلک بیماری ہے،لہذا ماہراوردیندار ڈاکٹربھی اس کی تصدیق کرتاہے،توایسی صورت میں اگرحمل 120دن سے کم  ہو،تو اسقاط حمل جائزہے،ورنہ اگرحمل 120دن سےزیادہ ہو،تواسقاط حمل جائزنہیں۔

لمافي" الدرمع الرد":

قـالـوا: يباح إسقـاط الولد قبل أربعــة أشهـر ولـو بلا إذن الزوج.قال العلامة ابن عابدين تحت قوله:(وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم! يباح ما لم يتخلق منه شيء، ولن يكون ذلك إلا بعدمائةوعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح....قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل، وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه..... قال ابن وهبان:فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر أو أنها لا تأثم إثم القتل".(كتاب النكاح،مطلب: في حكم إسقاط حمل:4/335،ط:رشيدية)

وفي" فتح القدير":

"وهل يباح الإسقاط بعد الحبل؟ يباح ما لم يتخلق شيء منه، ثم في غير موضع قالوا: ولا يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما".(كتاب النكاح،باب النكاح الرقيق:3/380،ط:دارالكتب العلمية)

وفي "الفتاوى الهندية":

"قالوا: وكذلك المرأة يسعها أن تعالج لإسقاط الحبل ما لم يستبن شيء من خلقه، وذلك ما لم يتم له مائة وعشرون يوما".(كتاب النكاح،الباب التاسع: النكاح الرقيق:1/401،ط:دارالفكر).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 171/286